خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہو کر نظم کا خلاصہ

خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہو کر نظم کا خلاصہ : نظم “خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر” بارھویں جماعت  سرمایہ اردو ( اردولازمی ) کی تیسری نظم  ہے ۔ جس کے شاعر اکبر الہ آبادی  ہیں اور یہ نظم ان  کی کتاب “کلیات اکبر “ سے لی گئی ہے ۔  بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں سب سے زیادہ اسی  نظم  کا خلاصہ  آتا ہے ۔

شاعر: اکبر الہ آبادی

خدا سر سبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خلاصہ

فصل بہار آئی تو گلستان کا دامن پھولوں سے بھر گیا ۔بلبلوں کی پکار نے ایک شور برپا کر دیا ۔ زمین پر تروتازہ سبزے کا فرش بچھ چکا ہے ۔ خوشبوؤں سے لبریز صبح کی ہوائیں دیوانہ وار پھرتی ہیں ۔ پھلنے پھولنے کی مستی میں ڈالیاں جھومتی ہیں ۔ اور پرندے خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔ صبح کی ہوائیں پھولوں بھری شاخوں کے صدقے اتارنے لگی ہیں ۔ باغ کی کلیاں کسی گلبدن کے چہرے کی مانند کھل اٹھی ہیں ۔ اوس سے بھرے حوضِ گلستاں پر پھول وضو کرنے لگے ہیں ۔ اور بلبل کی صدائیں اذانِ  صبح کی طرح گونجنے لگی ہیں ۔ ہر شاخ جھک جھک کر خالق کے سامنے سجدے  کرتی ہے۔ اور پھول کی ہر پتی تسبیح و تہلیل میں رطب للسان ہے ۔ گلوں کی ان رنگیں زبانوں سے ایک ہی دعا نکلتی ہے۔ کہ خدائے مہرباں کبھی اس بہار کو خزاں کا منہ نہ دکھائے۔

 

Leave a Comment