اور آنا گھر میں مرغیوں کا سیاق و سباق اور تشریح

اور آنا گھر میں مرغیوں کا سیاق و سباق اور تشریح

OUR ANA GHAR MAIN MURGION KA SUMMARY AND NOTES PDF

اور آنا گھر میں مرغیوں کا  : ایک شاہکار مزاحیہ مضمون ہے جو کہ مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے۔اس مضمون میں  اہم پیراگراف کی تشریح کی گئی ہے تاکہ طلباء مستفید ہو سکیں۔

 

حوالہ متن : مہینوں ان کی نگہداشت اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیاسا تصور کرے”۔

  سبق  کا  نام :             اورآنا گھر میں مرغیوں کا

مصنف  کانام:          مشتاق احمد یوسفی

         سیاق وسباق:تشریح طلب پیراگراف  دورِ حاضر کے سب سے بڑے مزاح نگار مشتاق احمد یوسیفی کی کتاب “چرغ تلے” سے اخذ شدہ ہے  یہ کتاب مصنف نے1961ء میں لکھی۔

پیراگراف کے سیاق کی بات کی جائے تو سبق کے آغاز میں مصنف کے دوست نے  مختلف دلائل دے کر مرغیاں مصنف کے حوالے کر تو دیں  لیکن مصنف مرغیاں رکھنے کا روادار نہیں تھا  دوست نے مرغیوں کی افادیت میں  کئی فوائد بیان کیے کہ ان کا گوشت  اور  انڈے سبھی فائدہ مند ہیں  بد سلیقہ عورت جس طرح چاہے  انڈا بنا سکتی ہے۔تازہ اور گندے انڈوں کا موقع محل بھی بیان کیا۔دس مرغیوں سے شروع ہونے والا کاروبار تین سال کے اندر اندر کروڑوں مرغیوں   تک پھیل سکتا  ہے ۔خوراک کھلانے کی بھی کوئی فکر نہیں یہ اپنی خوراک کا انتظام خود ہی کر لیتی ہیں ۔مصنف نے ازراہ مروت مرغیاں لے تو لیں۔

تشریح طلب پیراگراف سبق  کے  تقریبا ً درمیان  سے لیا گیا ہے۔

سباق کی بات کی جائے تو تشریح طلب پیراگراف کے بعد مصنف مرغ کی آواز  اور اس کے اذان دینے کی عادت ،ڈربے کے علاوہ ہر جگہ ان کا نزول اور انڈوں سے بچے نکلنے کی کہانی کا بھی احاطہ کیا ہےمصنف کی بیوی کو ان کی بجائے مرغیوں سے زیادہ محبت ہو جاتی ہے ۔  مرغیوں کے گھر پر آنے پر مصنف کو    کئی اَن دیکھی مصیبتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا  ۔سبق کے آخر پر وہ ایک مشورہ ان لوگوں کو دیتے ہیں جو دنیاوی مشکلات سے  چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو مرغیاں پال لیں  تو اُن کو اپنی پہلی زندگی جنت معلوم ہو گی۔

تشریح:        بیسویں صدی   اردو کے سب سے بڑے اور نامور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا عہد ہے   ان کی مزاحیہ تحریریں  معاشرتی اور سماجی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے بہت معاون ثابت  ہوتی ہیں    ان  کی  شگفتہ تحریریں اکثر   قاری  کے چہرے پر مسکراہٹ   بکھیر دیتی ہیں ۔ اسی لیے ابن انشاء  نے  بیسویں صدی کو عہد ِ یوسفی قرار دیا ہے۔مرغیوں کے متعلق انھوں نے اپنے مشاہدے کو اس طرح صفحہ قرطاس پر اتارا   کہ قارئین کے دماغ کے کینوس پر ایک  ایسا منظر  تخلیق  پاتا ہے جو نئی سوچ کے ساتھ ساتھ دماغ کے  نئے دریچے بھی  کھول دیتا ہے ۔

            تشریح طلب پیراگراف کا آغاز مرغیوں کی نگہداشت اور سنبھال کے متعلق ہے۔مصنف مختلف جانوروں کی وفاداری اور اطاعت شعاری کا ذکر کرنے کے بعد مرغیوں کی بے مروتی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ مرغیاں   اس صنف سے تعلق رکھتی ہیں جن پر محبت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔بیشک سونے کا نوالہ ہی کیوں نہ کھلایا جائے۔لیکن مجال ہے یہ آپ سے مانوس ہو جائیں اور محبت کا جواب محبت سے دیں۔بقول بہزاد دہلوی

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

 

مصنف مزید بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم  سدھائے ہوئے جانوروں کی طرح یہ بھی  امید نہیں رکھتے  کہ   مرغیاں کتے کی طرح پیروں میں لوٹیں یا سرکس کے طوطے کی طرح توپ چلا کے  ہمارےگھر آنے پر استقبال کریں۔اس بات کی  بھی توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ مرغیاں انڈے دینے کے لیے آپ کے پاس آکے اجازت مانگیں گی اور انڈے آپ کے سپرد کر کے احتراماً الٹے پاؤں لو ٹ جائیں گی۔ اگرچہ مصنف بھی نہیں جانتے تھے کہ محبت دو طرفہ ہوتی ہے اسی طرح ایک شاعر نے اپنے مرغے کے فراق میں کیا خوب کیا تھا۔

اے مرے مرغے مرے سرمایۂ تسکین جاں

تیری فرقت میں ہے بے رونق مرا سارا مکاں

کون دے گا رات کے بارہ بجے اٹھ کر اذاں

تیری فرقت میں یہ دل تڑپا جگر نے آہ کی

کھا گئی تجھ کو نظر شاید کسی بد خواہ کی

 

مرغیوں کی اور خصلت کے بارے میں مصنف بیان کرتے ہیں کہ واحد جاندار ہے جوہر چمکتی ہوئی چیز کو چھری  سمجھ کر  بدکنے لگے  ۔مسلمانوں پر بھی وہ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں  جہاں وہ  بھی حلال جانور کو دیکھتے ہیں تو اس  کو   کھانے کے لیے حلال کر نے کا خیال فوراً ان کے ذہن میں آجاتا ہے۔

بقول مشتاق احمد یوسفی : “مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے وہ ذبح کر کے کھا نہ سکیں”

اور دوسری طرف پیار سے پالے گئے حلال جانوروں پر بھی ذمہ داری ہے کہ  ہر چمکتی ہوئی چیز کو وہ بھی چھری نہ سمجھیں ۔اسی تعصب کے بارے میں شاعر بیان کرتا ہے

کھیل کچھ ایسا دکھایا  ہے تعصب نے یہاں
ناچتی  ہے موت سر پر، زندگی خاموش ہے

 

مشتاق احمد یوسفی  نے ہماری زندگیوں کی تہذیبی اور مجلسی زندگی کو اپنے مزاحیہ اسلوب سے اتنا دلکش بنا دیا ہے کہ ایک عام سا نظر آنے وال پرندہ جس  کی اتنی خصوصیات اور نقائص بیان کیے کہ انسان  مصنف  کے مشاہدے پر دنگ رہ جاتا ہے۔ انھوں نے خواص و عام لوگوں کی بہت سی غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں  کا  ازالہ بھی اپنے اس مضمون میں کیا ہے۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ   وہ   اپنی تحریروں  میں معاشرتی برائیوں کو طنز کی زدمیں  لا کر دلچسپ پہلوؤں پر گدگداتے فقرے جست کرکے حیرت میں ڈال دیتے کہ قاری ان کی بات پر مسکرانے  اور اثبات میں سر ہلانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا   ۔

PDF DOWNLOADING
PDF DOWNLOADING

Leave a Comment