mirza mahmood sarhadi poetry in urdu,مرزا محمود سرحدی شاعری اور قطعات

mirza mahmood sarhadi poetry in urdu,مرزا محمود سرحدی شاعری اور قطعات،محمود سرحدی کے اشعار کی تشریح۔سال اول کی نظم قطعات کی تشریح ،

  mirza mahmood sarhadi poetry in urdu pdf

Mirza Mahmood Sarhadi qataat

قطعہ   : شاعر

شاعر   : مرزا محمود سرحدی

کل ایک مفکر مجھے کہتا تھا سرِ راہ

شاید تری ملت کا ہے مٹنے کا ارادہ

میں نے یہ کہا اس سےکوئی وجہ بھی ہوگی

بولا تری قوم میں شاعر ہیں زیادہ

مفہوم:        ایک مفکر نے  شعراء کی تعدادمیں اضافےکو ملت کی تباہی کا  سبب بتایا ہے ۔

تشریح :  مرزا محمود سرحدی اردو طنزیہ اور مزاحیہ شاعری میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ محمود اپنے ارد گرد کی صورت حال کی مضحکہ خیز  تصویر نہایت مہارت کے ساتھ نمایاں  کرتے ہیں اور ان کی شاعری میں  گہرا طنز بھی پایا جاتا  ہے۔یہ مفکر اور شاعر کے درمیان مکالماتی قطعہ ہے جس میں ایک مفکر نے شاعر کے سامنے ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے کہ  ملت اپنی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ معاشرے کے اندر شاعروں کی بہتات کا ہونا ہے۔مفکر بتانا چاہتا ہے کہ  مقصدیت سے خالی شاعری  معاشرے کو تباہ و برباد کر دیتی ہے ۔نفرت ، حقارت  اور بے راہروی کے موضوعات پر کی جانے والی شاعری  معاشرے میں ذہنی تناؤ کا باعث بنتی ہے  ۔ایسی شاعروں کے متعلق  الطاف حسین حالی نے  کیا خوب کہا ہے :

بُرا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے

عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا  ہے

تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے

مقرر جہاں نیک و بد کی جزا ہے

گناہگار واں چھوٹ جائیں گے سارے

جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے

مفکر کے مشاہدے کی داد دینا پڑے گی جس نے معاشرے کے اندر بے مقصد  ، بےہودہ ،فحش اور عریاں  شاعری کرنے والوں کو وعید سنائی ہے  جو اپنی ہیجان انگیز خیالات کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں ۔قرآن پاک میں  سورۃ الشعراء میں ایسے ہی شاعروں کو  وعید  سنائی گئی ہے جو خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں اس کا حل ایک اور شاعر نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

یہ کر جائیں  ہجرت جو شاعر ہمارے

کہیں مل کے”خس کم جہاں پاک”

جب ہمارے شاعر ہجرو وصال میں کچھ اس طرح کی شاعری کریں گے تو ملت کی تباہی یقینی ہے:

رات کو اس قدر میں رویا تھا ہجر یار میں

دس سمندر،آٹھ سو نالے،کئی دریا بہے

قطعہ   : اخباری اشتہار

شاعر   : مرزا محمود سرحدی

نوکری کے لیے اخبار کے اعلان نہ پڑھ

جان پہچان کی باتیں ہیں،کہا مان، نہ پڑھ

جن کو ملنی ہو  ،  پہلے ہی مل جاتی ہے

بس دکھاوے ہی کے ہوتے ہیں یہ فرمان نہ پڑھ

مفہوم:        نوکریاں اشتہارات کی بجائے رشوت  ،  سفارش   اور اقرباء پروری سے ملتی ہیں ۔

تشریح :  مرزا محمود سرحدی اردو طنزیہ اور مزاحیہ شاعری میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ محمود اپنے ارد گرد کی صورت حال کی مضحکہ خیز  تصویر نہایت مہارت کے ساتھ نمایاں  کرتے ہیں اور ان کی شاعری میں  گہرا طنز بھی پایا جاتا  ہے۔ تشریح طلب قطعہ میں شاعر اخباری اشتہارات کو ایک قومی المیہ قرار دیتے ہوئے   طنز کرتے  ہیں کہ  یہ صرف دکھاوے کے لیے ہوتے ہیں  بالکل اسی طرح جس طرح ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور  کھانے کے اور ہوتے ہیں ۔ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور لا قانونیت کے سب سے بڑے اسباب میں میرٹ کا قتل عام بھی ہے۔بقول شاعر:

ملک میں بے روزگاری عام ہے

ہر پریشانی اسی  کا نام ہے

نوکری ملتی ہے رشوت سے فقط

یہ خرابی ہر طرف ہر گام ہے

پاکستان میں نوکریوں کی  تشہیر صرف دکھاوے کے لیے ہوتی ہے جن پسندیدہ افراد کو نوکریاں دینی ہوتی ہیں ان کو  پہلے ہی منتخب کر لیا جاتا ہے ۔ان افراد کی وجہ سے قومی ادارے تباہ و برباد ہو رہے ہیں  نوجوان بنیادی حق روزگار سے محروم ہوکر منشیات اور  جرائم کی دنیا میں  قدم رکھ لیتے ہیں ۔

کلرکوں سے آگے بھی افسر ہیں کتنے

جوبے انتہا صاحبِ غور بھی ہیں

ابھی چند میزوں سے گزری ہے فائل

مقامات  آہ و فغاں اور بھی ہیں

ہمارے ملک کا یہ بھی المیہ ہے جب نئی حکومتیں آتی ہیں تو اپنے کارکنوں کو نوازنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں ۔آج کل تو ایک ٹرینڈ یہ بھی ہے کہ درجہ چہارم کے ملازمین کی اکثریت کا کوٹا ایم پی اے اور ایم این اے کو دیے جاتے ہیں ۔ بندر بانٹ کے ذریعے اپنوں کو نوازنے کا عمل سالہا سال سے جاری ہے۔

کچھ بھتیجے ہیں چند سالے ہیں

عہدے تقسیم ہونے والے ہیں

شاعر کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہے رشوت ،  سفارش  اور اقرباءپروری جیسے عفریت کا خاتمہ ہے  شاعر ان برائیوں کا تذکرہ کر کے ان کے خلاف صدا بلند کر رہا ہے  اس حل ایک اور شاعر نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے ۔

ہر اس شخص کو انصاف کی کرسی سے ہٹا دو

جو عدل کی توقیر کو مٹی میں ملا دے

قطعہ   : غفلت

شاعر   : مرزا محمود سرحدی

اے ساقی گُل فام برا ہو ترا   تو نے

باتوںمیں لبھا کر   ہمیں  وہ جام پلایا

یہ حال ہے سو سال غلامی میں بسر کی

اور ہوش ہمیں اب بھی مکمل نہیں آیا

مفہوم:        انگریزوں نے ایسا  جادو کیا ہے کہ سو سالہ غلامی کا اثر آج بھی  ہم پر ہے  ۔

تشریح :  مرزا محمود سرحدی اردو طنزیہ اور مزاحیہ شاعری میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ محمود اپنے ارد گرد کی صورت حال کی مضحکہ خیز  تصویر نہایت مہارت کے ساتھ نمایاں  کرتے ہیں اور ان کی شاعری میں  گہرا طنز بھی پایا جاتا  ہے  شاعر نے ساقی گل فام کا استعارہ انگریزوں کے لیے استعمال کیا ہے  جو تجارت کی غرض سے آئے اور پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا ۔تشریح طلب قطعہ   انگریزوں  کے خلاف ایک صدائے احتجاج  بھی ہے اور اپنی محکوم قوم کو جگانے کے لیے ایک شعری للکار  بھی ہے ۔شعر میں ایک طرف انگریزوں کے چکنی  چپڑی باتوں  اور  فریب  کا ذکر ہے تو دووسری طرف   اہل وطن کی بے حسی کا بھی رونا ہے  ۔بقول اکبر الہ آبادی

جو میری ہستی تھی مٹ چکی ہے نہ عقل میری نہ جان میری

ارادہ ان کا دماغ میرا ، خیال ان کا زبان میری

تو دوسری طرف  اہل وطن سے بھی شکوہ  ہے کہ وہ خوابِ غفلت میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ۔ایک طرف انگریز حکومت تنقید کرنے والے قلم کاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتی تھی تو دوسری طرف عوام ظلم سہنے کے اس قدر عادی ہو چکے  تھے  کہ وہ صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرتے  تھے ۔اقبال نے  بھی قوم کے اس رویے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی

یہ صنائی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

ہندوستان کے لوگوں کو فریب دینے کے لیے انگریزوں نے اپنی سفید چمڑی کا بھر پور استعمال کیا۔اس کے علاوہ تعلیم کے نام پر کلرک پیدا کرنے والی فیکٹریاں بنا کر چلا گیا۔ مسلمان اپنے  دین ،اقدار ،مذہب اور تہذیب و تمدن سے دور ہوتے چلے گئے۔سو سال گزر جانے کے باوجود غلامی کا یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔بقول اکبر الہ آبادی

مغربی رنگ و روش پر کیوں نہ آئیں قلوب

قوم ان کے ہاتھ میں ہے ، تعلیم ان کے ہاتھ میں

شاعر نے تقلید پرست اور احساس کمتری میں مبتلا قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے کہ کسی طرح وہ اپنے اسلاف اور بزرگوں کی روشن روایات اور اقدار کو اپنا لیں ۔لیکن افسوس صد افسوس! آج ہم اپنی چیزوں میں تو بے شمار خامیاں نکالتے ہیں لیکن دوسروں  کو سر پر بٹھاتے ہیں ۔قرآن و سنت سے دوری نے  آج ہمیں ہر معاملے میں مغرب کا دستِ نگر بنا دیا ہے ۔مغربی تقلید کرتے کرتے ہم نے اسلام کو داؤ پر لگا دیا ہے ۔بقول اقبال

دیں ہاتھ سے دے کراگرآزاد ہو ملت

ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

قطعہ   : ریڈیو

شاعر   : مرزا محمود سرحدی

جن کو انگریز کا قانون  ہو اَزبر  اُن سے

اور سب کچھ پوچھ مگر شرع کے احکام نہ پوچھ

ریڈیو میں بھی جو تلاوت نہ سنیں

اُن مسلمانوں کی اولاد کا اسلام نہ پوچھ

مفہوم:افسوس !  ہمارے نوجوان         انگریزی قانون    کی الف ب تو جانتے ہیں لیکن   شرعی وقوانین سے اتنے ہی نا بلد ہیں  ۔

تشریح :  مرزا محمود سرحدی اردو طنزیہ اور مزاحیہ شاعری میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ محمود اپنے ارد گرد کی صورت حال کی مضحکہ خیز  تصویر نہایت مہارت کے ساتھ نمایاں  کرتے ہیں اور ان کی شاعری میں  گہرا طنز بھی پایا جاتا  ہے  ۔شاعر  مسلم نوجوانوں  کی تعلیم  پر صفِ ماتم بچھائے ہوئے ہیں انگریزوں نے ہندوستان کے نوجوانوں کی اس طریقے سے ذہن سازی کی ہے کہ وہ  انگریزی قانون کی تمام شقوں سے واقف ہیں کہ اسلامی حدودوقیود اور شریعت سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی حالت  “آدھے تیتر آدھے بٹیر” والی ہوگئی ہے ،بقول اکبر الہ آبادی

چھوڑ کر مسجدیں جا بیٹھے ہیں مے خانوں میں

واہ! کیا جوش ترقی ہے مسلمانوں میں

شاعر نے ایسے مسلمانوں کو اسلام سے نا بلد قرار دیا ہے جو صرف مغربی تہذیب کے دلدادہ ہیں  جو دینی تعلیم سے رغبت کی بجائے اذان سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ریڈیو اور ٹیلی وژن پر جیسے ہی اذان کی آواز آتی ہے ہم فوراً چینل کو بدل لیتے ہیں۔پہلے اذان کے وقت ریڈیو اور ٹیلی وژن کو بند کرتے تھے پھر آواز بند کرنے لگے اور اب تو چینل ہی بدل لیتے ہیں ۔اب ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ۔علامہ اقبال فرماتے ہیں :

وضع میں تم ہو نصاریٰ تمدن میں ہنود

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

اور

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

شاعر کو افسوس اس بات کا بھی ہے کہ وہ مسلمان  جس کو نیابتِ الہی کا منصب ملا ہو ؛جس کو وہ شان ملی ہو جو فرشتوں کو بھی نہ ملی ہو ؛وہ جو مسجودِ ملائکہ ٹھہرایا گیا ہو ؛ اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ ملا ہو وہ  مٹھی کی خاک کی طرح ہوا کے رحم و کرم پر کیونکر ہوگیا ہے۔ اسیی لیے کہا جاتا ہے:” کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ” ۔ شاعر کا مقصد مسلم نوجوانوں  کی اصلاح ہے انگریزوں کی تقلید  جیسے عفریت کا خاتمہ چاہتا  ہے  شاعر ان برائیوں کا تذکرہ کر کے اصلاح کی  صدا بلند کر رہا ہے  اس کا  حل ایک اور علامہ اقبال نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے ۔

چیتے کا جگر چاہیے شاہین کا تجسس

جی سکتے ہیں بے روشنی دانشِ افرنگ

کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ

بلبل فقط آواز ہے طاؤس فقط رنگ

PDF DOWNLOADING

 

Leave a Comment