اردو زبان ضرورت اور اہمیت

اردو زبان  ضرورت اور اہمیت سال دوم کے  smart syllabus کا  ایک بہت ہی اہم مضمون ہے۔اس مضمون میں   اردو زبان کی ضرورت اور اہمیت کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اردو زبان کی اہمیت ، اردو زبان کی تاریخی اہمیت ، قومی اردو زبان کی قومی و معاشرتی اہمیت ، اردو زبان کی اہمیت پر اشعار ، زبان کی اہمیت و افادیت ، اردو زبان اہمیت اور اردو زبان کی خوبیاں کو بھی بیان کیا گیا۔

 

مضمون : اردو زبان ضرورت اور اہمیت

 

بات کرنے کا حسیں طُور طَریقہ سیکھا

ہم نے اُردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا

 

زبان اظہارِ رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے ۔کسی بھی ملک کی قومی زبان نہ صرف  اُس کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے  زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب و تمدن کی اساس بھی ہوتی ہے۔کسی بھی  قوم اور ملک کی ترقی اس قوم کی قومی زبان پر منحصر ہوتی ہے ۔

                 آج امریکہ ،جرمنی ،جاپان اور فرانس  اسی لیے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں  کہ انھوں نے اپنی  اپنی  قومی زبان کو ذریعہ تعلم اور سرکاری زبان کے طور پر  فروغ دیا ۔ ایک اور  مثال عظیم ملک  چین کی ہے جنہوں نے اپنی چینی زبان پر بھروسہ کر کے دنیا کو دیکھا دیا ہے  انگریزی زبان ترقی کی ضامن نہیں ہے ترقی تو  اپنی زبان میں رہ کر بھی کی جاسکتی ہے ۔ چینی صدر  کے سامنے جب  انگریزی  زبان  میں سپاس نامہ پیش  کیا گیا تو انھوں نے جواب میں  ایسا جملہ بولا جو کہ ضرب المثل کی حیثیت حاصل کر گیا۔

ان کے الفاظ تھے کہ   “چین ابھی گوُنگا نہیں ہوا”

 

                دوسری طرف ہم  بحیثیت قوم  انگریزی زبان  کے دلدادہ  بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے  آج انگریزی زبان سیکھنا ،  بولنا ہر شخص کی ضرورت کے ساتھ  مجبوری بن گیا ہے ۔  بقول انور مسعود

ہر شخص کو زبانِ فرنگی کے باٹ سے

جو شخص تُولتا ہے سُو ہے وُہ بھی آدمی

افسر کُو آج تک یِہ خبر ہی نہیں ہوئی

اُردو جُو بُولتا ہے سُو ہے وہ بھی آدمی

اردو زبان کی تاریخ   بہت شاندار ہے۔اردو  لفظ ترک زبان کے لفظ “اوردو “سے ماخوذ ہے جس کے معنی لشکر یا فوج کے ہیں ۔عربی زبان  ہندوستان میں 712ء میں  محمد بن قاسم اور عرب تاجروں کے ذریعے پہنچی ۔ چند صدیوں بعد عربی فارسی بولنے والے افغان بادشاہ سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر قبضہ کر کے فارسی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا  ۔ اس کی تقلید مغل بادشاہوں نے بھی کی اور مغلیہ دور میں ہی اردو نے فروغ پایا ۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان کو برصغیر کے مسلمانوں سے منسوب کی جاتاہے۔

                اردو زبان کی بناوٹ اور تشکیل کے متعلق سب سے بڑا نظریہ حافظ محمود شیرانی کا ہے انھوں نے اردو زبان کا ماخذ پنجابی اور فارسی زبان  کو قرار دیا اس نظریے کی اقبالؒ نے بھی تائید کی ہے۔

                اردو زبان کی اہمیت : اُردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہے ۔بھارت کی  چھے ریاستوں میں بھی  دفتری زبان کے طور پر رائج ہے ۔ہندوستان کے قانون میں اردو کا ان بائیس زبانوں میں استعمال ہوتا ہے جن کو دفتری زبان کا درجہ حاصل ہے۔پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً آٹھ فیصد اور بھارت کی آبادی کے تقریباً پانچ فیصد لوگ اردو کو مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔بھارت کی  چھٹی اور پاکستان کی پانچویں بڑی زبان اردو ہے ۔اردو زبان کو بامِ عروج تک پہنچانے میں  شاعروں ادیبوں اور انگریزوں کا بہت بڑا  ہاتھ ہے ۔مغلیہ دور  1849ء میں پہلی مرتبہ اردو کو  پنجاب  میں دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔پوری دنیا میں خالص  اردو بولنے والوں کی تعداد  11 کروڑ سے زائد ہے۔جس کے لحاظ سے اردو دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔

 

لفظ اردو  کو مشہور شاعر غلام ہمدانی مصحفیؔ  نے  1780ء کے آس  پاس  اپنی  شاعری میں استعمال کیا  ۔ اردو کو مختلف ناموں سے پکارا  جاتا  رہا   مثلاً  ہندوی  ،  ریختہ  ،  ریختی  ،   دہلوی اور  کھڑی بولی   ۔

ریختہ کے تم ہی استاد نہیں ہو غالبؔ

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

 

 

                1837ء میں اردو کو پہلی مرتبہ  فارسی کی جگہ انگریزی  کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو اور ہندی میں سب سے بڑا فرق رسم الخط میں ہے۔اردو نستعلیق رسم الخط اور   ہندی دیونا گری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ اردو  زبان  کا جدید زبانوں میں شمار ہوتا ہے اس کے باوجود دنیا کی تمام اصنافِ ادب کا مواد ملتا ہے۔ رسم الخط کے فرق نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستان کو دو زبانوں اردو برائے مسلم اور ہندی برائے ہندو میں تقسیم کر دیا۔اردو زبان نے اپنے اندر فارسی اور عربی الفاظ کو فوقیت دی جبکہ ہندی نے سنسکرت زبان سے زیادہ الفاظ لینا شروع کیے۔انگریزی زبان  کے الفاظ کو اردو ہندی زبانوں نے فراخ دلی سے قبول کیا۔

                اردو کی افادیت کا اس سے اندازہ اس سے  لگا سکتے ہیں کہ  ہندی آج تک ہندوستان میں عام لوگوں کی زبان نہیں بن سکی  ۔ہندی کے بیشتر الفاظ تو ہندی بولنے والوں کی سمجھ میں بھی نہیں آتے  ۔ بھارت کی فلم انڈسٹری دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے اس میں زیادہ تر فلمیں اردو میں ہی بنتی ہیں ۔گانوں کی شاعری تو 100 ٪ اردو میں کی جاتی ہے۔

قائدِ اعظم محمدعلی جناح نے فرمایا تھا:  “پاکستان کی قومی زبان اردو اور صرف اردو ہو گی ۔”

 

                اردو زبان  کو تمام  پاکستانی صوبوں میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ پرائمری سے لے کر اعلٰی ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھائی اور سیکھائی جاتی ہے۔اردو زبان    اَدب ،  دفتر ،  عدالت ،  وسیط اور دینی اِداروں میں بولی  جاتی  ہے۔ اور  یہ ملک کی سماجی و ثقافتی میراث کا خزانہ بھی لیے ہوئے  ہے پوری دنیا میں اردو بولنے والے پائے جاتے ہیں ۔عرب ریاستوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ،امریکہ ،کینیڈا جرمنی اور آسٹریلیا میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔۔

1973 کے آئین کے تحت شق 251 کے مطابق اردو کو دفتری زبان بنانے کا اعلان ہوا  لیکن عمل نہ ہوا  پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے  8ستمبر 2015ء کو سرکاری دفاتر میں اردو کو  بطورِ سرکاری زبان کے نافذ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں ۔

ہماری قوم کی بدقسمتی تو دیکھیے جس شخص کو انگریزی زبان  نہیں ہم اس کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتے۔اردو بولنے والوں کو عجیب نظروں سے گھورا جاتا ہے ۔

ہم بھول گئے ہیں  کہ اُردو زبان  کے فروغ  میں سرسید ، شبلی ، حالیؔ ، ندوی ؔ ،ڈپٹی نذیر احمد ،میر تقی میر ،مصحفیؔ ،  غالبؔ اور علامہ اقبالؒ جیسے عظیم شاعروں اور ادیبوں نے  لازوال ادب تخلیق کیا ہے ۔اردو زبان کی اہمیت پر چند مشہور شاعروں کے اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

                                    داغ دہلویؔ

اُردو ہے جِس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

ہندوستاں میں  دُھوم ہماری زباں کی ہے

                                    مصحفیؔ

زبان دیکھی ہے ہم نے میر کی مرزا کی بھی واللہ

کہیں ہم کس طرح کہ مصحفیؔ اردو  ہماری ہے

                                    اقبالؒ

گیسوئے اردو ابھی منّت پذیرِ شانہ ہے

شمع یہ سودائیِ دل سوزئ پروانہ ہے

                            سلیم صدیقیؔ

فضا کیسی بھی ہو وہ رنگ اپنا گھول لیتا ہے

سلیقے سے زمانے میں جو اردو بول لیتا ہے

ہر ملک میں اُس کی قومی زبان کی اہمیت  کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے  کہ اس ملک  کے دفاتر، عدالتوں، سکولوں اور اسمبلیوں میں قومی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے یا نہیں  تاکہ اس سے قومی زبان کو فروغ ملے ۔ چند تجاویز  ہیں جن پر عمل کر کے ہم وطنِ عزیز میں اردو کو فروغ دے سکتے ہیں۔

  • تمام نصابی کتب کا سلیبس اردو زبان میں ہونا چاہیے۔
  • دفاتر میں اردو کو دفتری زبان کا درجہ دیا جائے۔
  • سرکاری خط و کتابت اردو زبان میں ہو  ۔
  • عدالتوں کے فیصلے بھی اردو میں لکھے جائیں ۔
  • انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ شامل کیا جائے۔
  • اردو کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو ۔
  • صوبائی اسمبلیاں کی کاروائی اپنی لوکل زبانوں کی بجائے اردو میں ہو ۔
  • انگریزی نظام ِ تعلیم پر پابندی لگائی جائے۔
  • انگریزی زبان کو لازمی کی بجائے آپشنل بنایا جائے ۔

تھا عرش پہ اک روز دماغِ اُردو

پامالِ خزاں آج ہے باغِ اُردو

غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظؔم

وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغِ اُردو

پاکستان میں ہمیشہ سے الٹی گنگا بہتی ہےآج تک  اردو کو عملی طور پر سرکاری زبان کا درجہ   نہیں دیا گیا۔ انگریزوں نے ہمیں ایسا نظام تعلیم دیا ہے جس سے کلرک تو پیدا ہو سکتے ہیں لیکن رہنما پیدا  نہیں کیے جا  سکتے ۔ انگریزوں نے ہماری تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارے رہن سہن اور روایات کو بھی سلب کر لیا ہے ۔اگر کسی ملک کی زبان کو چھین لیا جائے تو اس کی شناخت ختم ہو جاتی ہے ۔

4 thoughts on “اردو زبان ضرورت اور اہمیت”

Leave a Comment