ادیب کی عزت سبق کا خلاصہ

ادیب کی عزت  سبق مشہورِ زمانہ اور اردو کے پہلے  افسانہ نگار پریم چند کا افسانہ ہے۔ان کے افسانوں کا موضوع دیہی زندگی اور عام آدمی کے گرد گھومتی ہے۔

ادیب کی عزت

افسانہ نگار: پریم چند

خلاصہ

پریم چند اپنے افسانے “ادیب کی عزت ” میں ایک  شاعر حضرت  قمر  کی زندگی کو موضوع بحث بناتے ہیں جو حسبِ معمول بار بار ابالی ہوئی بغیر دودھ اور چینی  کی چائے سے ناشتہ کر کے اپنی کتاب لکھنے بیٹھ جاتے ہیں جو ان کے خیال میں  شاید ان کو  قعر ِ گمنامی کے گڑھے سے نکال کر شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دے گی ۔

سردی میں پھٹےپرانے لحاف  میں سوئی بیوی کو جگانا اس لیے مناسب  نہ سمجھا کہ رات کو شاید نیند آئی ہو یا نہیں ۔بیوی جاگی تو پھیکی چائے کا سن کر ملال کرنے لگی۔مگر حضرت قمر کی وہی بے نیازی کہ پھیکی چائے صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے یورپی دودھ نہیں ملاتے اور چینی رئیسوں کی اختراع ہے وغیرہ وغیرہ۔

ادبی خدمت کا روگ ان کی جوانی کھا گیا تھا اور اب چالیس سال کی عمر میں بڑھاپا گھیرے بیٹھا تھا فکرِ سخن میں ضروریات زندگی  کو بھی فراموش کر بیٹھے تھے اگرچہ زمانے کو ناقدری کا موقع بھی نہیں ملا تھا پھر بھی کبھی کبھی اپنی تحریروں کو بے معنی خیال کرنے لگتے۔

حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ غربت میں  ان کی بیوی سکینہ صبر میں ان سے بھی آگے تھی۔برتن سمیٹ کر بولی کہیں باہر گھوم آئیے۔۔۔فرمانے لگے کی سیر کرنا وقت کا ضیاع ہے اور یہ امیروں اور سرکاری افسروں کا شوق ہے جنہیں معاش کی فکر نہیں ؛ ادیب تو مزدور ہوتا ہے سکینہ اس کی باتوں پر یاسیت کی حد تک رنجیدہ ہو جاتی ہے۔

اسی دوران ایک رئیس نے  قمر کو ایک تقریب میں مدعو کیا تو قمر صاحب سارا دن  خیالی پلاؤ  پکاتے رہے انھوں نے دعوت کے لیے ایک نظم کہی جس  میں زندگی کو باغ سے تشبیہ دی گئی تھی۔

دوپہر کو پھٹی پرانی اچکن پہن کر تیار ہوئے تو سکینہ نے اس حال میں جانے سے منع کیا اور  راجہ سے معذرت کرنے کے لیے کہا۔قمر اس دعوت کو اپنی ادبی  حیثیت  اور قامت کی بلندی تصور کر رہا تھا سکینہ نے  گھر میں فاقوں کی نوبت کی پیشگی اطلاع کی تو قمر نے چند ایک اخباروں سے رقم ملنے کا کہا اور پھر انھی خیالات میں کھو کر سرابِ ہستی کا پیچھا کرنے لگا۔

اورآخرکار سرِ شام جب گھر سے نکلے تو دنیا کا آخری عجوبہ نظر آرہے تھےخلاف توقع دکانداروں کے تقاضوں سے بے خوف ہو کر بازار  میں مختلف دکانوں پر گئے اور رئیس کی دعوت کو اپنے لیے خوش قسمتی قرار دیا اور دکانداروں کو خوب مرعوب  کرنے کے بعد راجا صاحب کیے مکان پر پہنچےتو لمبی لمبی موٹریں بنگلے کے باہر موجود تھیں دربان جھک جھک کر مہمانوں کا پرتپاک استقبال کر رہے تھے۔

لیکن قمر کو ان کے حلیہ کی وجہ سے کارڈ دکھانے کے لیے کہا تو وہ تیش میں آگئے ۔راجا صاحب نے ان کو رونقِ محفل قرار کیا اور معزز مہمانوں سے ان کاتعارف کروایا گیا ایک انگریزی لباس میں ملبوس شخص نے ان پر تنقید کی کہ ہمارے شاعر ہجرووصال سے زیادہ کچھ جانتے ہی نہیں اس لیے ان کو انگریزی  کتابوں کے تراجم کرنے کا کہا تو قمر نے بھی انھیں  ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ابھی مغرب کو ہمارے روحانی تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

راجہ صاحب نے انگریزی پوش کی حمایت کی ۔ حضرت قمر کو ہر کسی کے منہ سے ذو معنی الفاظ”اچھا آپ شاعر ہیں ” انتہائی ناگوار محسوس ہوئے۔اسی دوران مہمان خصوصی کی آمد ہوئی جوکہ باہر سے کوئی بڑی ڈگری لے کر آیا تھا۔راجہ صاحب نے حضرت قمر کو نظم پڑھنے کے لیے کہا تو انھوں نے صاف جواب دے دیا اور دوسروں کی نظم پڑھنے سے یہ کہتے ہوئے  انکار کر دیا کہ وہ مراثی اور بھانڈ نہیں ہیں اور گھر روانہ ہو گئے۔

جلدی گھر پہنچے تو سکینہ مطمئین چہرہ دیکھ کر بولی لگتا ہے بہت عزت افزائی ہوئی ہے! تو بولے کہ میں جان گیا ہوں میں ایک چراغ ہوں جس کا کام صرف جلنا ہے اور یہ کہ ادبی خدمت عین عبادت ہے۔

ادیب کی عزت کا خلاصہ
ادیب کی عزت کا خلاصہ

Leave a Comment