اکبری کی حماقتیں سبق کا خلاصہ

اکبری کی حماقتیں سبق مولوی نذیر احمد کے مشہورِ زمانہ ناول  “مراۃ العروس ” سے لیا گیا ہے۔”مراۃ العروس ” اردو ادب کا پہلا ناول بھی ہے۔ جس کا موضوع عورتون کی تعلیم وتربیت کرنا تھا ۔

 سبق “اکبری کی حماقتیں” بارھویں جماعت  سرمایہ اردو( اردولازمی) کا پانچواں سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں سب سے زیادہ اور بار بار اس سبق کا خلاصہ  آتا ہے ۔

  • خلاصہ کی تعریف:

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

  1. سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے
  2. سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔
  3. سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔
  4. سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔
  5. سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا
  6. 2 اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔
  7. سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

 

اکبری کی حماقتیں

ناول نگار: مولوی نذیر احمد

خلاصہ

اکبری اور عاقل

شادی کے چند ماہ بعد ہی اکبری  سسرال سے سے جھگڑا کر کے الگ گھر میں میں محمد عاقل کے ساتھ رہنے لگی تھی ۔

مکار عورت حجن کے بھیس میں

انہی دنوں شہر میں ایک کُٹنی آئی ہوئی تھی عاقل نے سمجھایا تھا لیکن اکبری پوری احمق تھی ایک روز وہی کُٹنی حجن کے بھیس میں اس محلے میں وارد ہوئی ۔ اس کے تبرکات کے جھانسے میں محلے کی لڑکیاں آگئیں ۔ اکبری بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی ملازمہ کے ہاتھ پیغام بھیج کر  گھر بلوا لیا  سرمہ اور نادِ علی پسند کیا تو کُٹنی کو دال گلتی نظر آئی ۔ اس نے فیروزے کی ایک انگوٹھی کا دانہ ڈالا ۔

اکبری کی بیوقوفی

اکبری کی بے تکلفی دیکھ کر کر حجن نے آل اولاد کا پوچھا تو احمق نے ایسی آہ  بھری گویا کی برسوں کی بانجھ ہو ۔ ایسی گنوار کی ہی حجن کو تلاش تھی  پہلی ملاقات میں ہی اکبری نے  گھر کا سارا احوال کہہ سنایا ۔

مکارعورت کا ٹھکانہ

حجن نے اپنا ٹھکانہ موم گروں کا چھتا بتایا اور چند روز بعد آنے کا کہہ کر چلتی بنی ۔ لیکن اگلے ہی روز پھر آ دھمکی ۔ اب کے تبرکات نہیں ایک خوبصورت ریشمی ازار بند  لے کر آئی تھی  اور چار آنے کو دے گی ۔حجن نے بتایا کہ کوئی بیگم صاحب ہے جو اپنا سامان بیچنے کو دیتی ہے آزار بند نے اکبری کے لالچ کو ہوا دی ۔  وہ چاہتی تھی کہ بیگم کی ہر بکاؤ چیز پہلے اس کے پاس آیا کرے  ۔حجن نے بات  آگے بڑھاتے ہوئے دو  لونگیں نکال کر دیں ۔ایک چوٹی میں  باندھنے کے لیے اور دوسری میاں کے تکیے میں سینے کے لئے ۔

لونگوں کے فضائل اور بھوپال کی  بیگم کا قصہ

پھر لونگوں کے فضائل کا قصہ شروع  کیا ۔ بات بھوپال کی ایک بیگم کی چلی اس بیگم کو کسی فقیر نے خواب میں یہ حکم دیا  کہ حج کو جائے اور  کوہ حبشہ پر سے اپنے من کے موتی کو نکال لائے ۔ بیگم صاحبہ حسن و دولت سے مالا مال تھیں بس اولاد کی محرومی تھی  اگلے ہی روز پانچ سو حاجیوں کا کرایہ دے کر بیگم حج پر روانہ ہوئی حجن بھی ساتھ تھی  دس دن  کے سفر کے بعد وہ کوہ حبشہ پہنچے ۔  شاہ صاحب کے چرن چھوئے  ۔ حضرت نے بارہ  لونگیں عطا کیں اور حجن کو  دہلی اور آگرہ میں  خدمت خلق کا حکم دیا ۔ بیگم کے  بصد اصرار کے باوجود بعد حجن  بھوپال سے چلی آئی کیونکہ دلی آگرہ میں لوگوں کی بگڑی بنانے کا حکم ہوا تھا اب اس کے پاس صرف دو لونگیں ہی بچی تھیں  لونگوں کی تاثیر اور دعائے فقیر سے بھوپالی بیگم چار بچوں کی ماں بن چکی تھی ۔  اکبر ی یہ داستان حرم سن کر ریجھ گئی ۔

لونگوں کا اثر

میاں عقل کے آنے تک  نہا دھو کر خوب بن سنور بیٹھی ۔ لونگوں کا استعمال حسب ہدایت کیا ۔ میاں گھر آئے تو  بیوی کو ساف ستھرا پایا تو خوش ہوئے ۔ مزاج خوشگوار پا کر  اکبری نے ازاربند بھی دکھایا  ۔ ایک اعلی اور سستا ازاربند دیکھ کر عاقل نے بھی حوصلہ افزائی کی ۔  لالچ کی پٹی  عاقل کی آنکھوں پر بھی بندھ گئی کہ حجن نے اتنا مہنگا ازاربند اتنا سستا کیوں دیا یہ  عاقل  نے بھی نہ سوچا  ۔لیکن اکبری پر لونگوں کا کامل اعتقاد جم گیا ۔

موتیوں کی ایک جوڑی

 چند دنوں بعد حجن موتیوں کی ایک جوڑی لائی دیکھنے میں ہزار کی لیکن اکبری کے لئے اس کی قیمت پچاس  روپے ہی تھی ۔ اکبری کے پاس نقدی نہیں تھی حجن نے  پہنچیاں بیچنے کی صلاح دی تو اکبری سارا زیور اٹھا لائی اب حجن کی محنت رنگ لے آئی ۔ اُجلوانے اور ڈورا ڈلوانے کے بہانے سارا زیور کپڑے میں باندھا ۔ملازمہ زلفن کو ساتھ لیا ڈورا ڈلوانے اور اجلوانے کا زیور علیحدہ  کرتے ہوئے زلفن سے بولی کہ ناک کی کیل تو وہ پان دان کے ڈھکن پر بھول آئی ہے جا کہ لے آ ۔ ملازمہ گھر پہنچی اور کیل مانگی  تو اکبری کا ماتھا ٹھنکا کیونکہ ناک کی کیل تو اس کے پاس تھی ہی نہیں ۔

مکار عورت  کا رفو چکر ہونا

  زلفن  دوڑی دوڑی  واپس اس جگہ گئی  مگر حجن ہوا ہو چکی تھی لوگوں نے پیچھا کیا لیکن حجن کا کوئی پتہ نہیں چلا وہ تو کرایہ دار تھی لیکن  اب وہ بھی خالی کر چکی تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ حجن  نے دو تین اورعورتوں کو لوٹا تھا ۔ کسی کا زیور دونا کرانے کے بہانے تو کسی کو محبت میں جال پھنسا کر لوٹا تھا  پولیس  بھی کوئی سراغ نہ لگا سکی  ۔ الغرض میاں بیوی لڑجھگڑکر اور رو دھو کر چپ ہو رہے ۔

اکبری کا پھوہڑ پن

اسی طرح اکبری کے کپڑوں کا حال  ہوا ۔ برسات بھر صندوق میں پڑے رہے  دیمک اور چوہوں نے  تمام کپڑوں کا ستیاناس کر دیا  تھا اکبری اپنی نانی کی لاڈلی تھی اسی لاڈ پیار نے  نہ تو سلیقہ مند بننے دیا نہ کسی فن میں دلچسپی پیدا کی ۔  شادی کے ایک سال کے اندر اندر کپڑے زیور  سے ہاتھ دھو بیٹھی اگر عاقل بھی پورا احمق ہوتا تو میاں بیوی کا رشتہ قائم نہ رہتا یہ اس کا  صبر اور شرافت ہی تھی کہ دونوں ایک گھر میں رہتے تھے ۔

اکبری کی حماقتیں 

اکبری کی حماقتیں خلاصہ
اکبری کی حماقتیں خلاصہ

azadi aik naimat hai essay in urdu

Leave a Comment