ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں سبق کا خلاصہ

ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں سبق کا خلاصہ :  “ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں” ابن انشا کے سفر نامے”دنیا گول ہے ” سے لیا گیا ہے۔”جس میں دنیا کے مختلف ملکوں اور مقامات کی سیر کروائی گئی ہے  ۔

سبق “ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں” بارھویں جماعت  سرمایہ اردو( اردولازمی) کا  سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں اس سبق کا خلاصہ  وقتاً فوقتاً  آتا رہتا ہے ۔

 

  • خلاصہ کی تعریف:

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

  • خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

  • أ‌. سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے
  • ب‌. سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔
  • ت‌. سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔
  • ث‌. سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔
  • ج‌. سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا
  • ح‌. 2 اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔
  • خ‌. سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

خلاصہ یاد کرنے کے لیے سرخیاں لگائی ہیں  سالانہ پیپر میں لکھنے کے لیے خلاصے کا   نمونہ  نیچے دیا گیا ہے

ابن انشا کی کابل روانگی

مصنف راولپنڈی اور پھر پشاور  میں تاخیر کی وجہ سے علی الصبح  ہوائی جہاز کے ذریعے کابل روانہ  تو  ہوا  لیکن گھنگور گھٹاؤں کی وجہ سے  جلال آباد اور درہ خیبر کے اوپر سے ہوتے ہوئے دوبارہ پشاور ائیر پورٹ پر لینڈنگ ہوئی ۔

گرم کپڑوں کی تلاش

جب دوست احباب کو مصنف کے افغانستان جانے کا پتہ چلا تو انھوں نے جاتے وقت گرم اونی  کپڑے خرید لینے کی ہر ممکنہ نصیحت کر دی تھی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کیا  کابل میں گدھوں کی کمی ہے ؟ جو تم جا رہے ہو ۔ مصنف جونا مارکیٹ کے لُندا بازار کے علاوہ پورے شہر سے گرم کپڑوں کے انبار لگا چکے تھے ۔ دوستوں نے بھی احسان جتاتے ہوئے ہر ناقابلِ استعمال کوٹ ان کے حوالے کر دیا تھا ۔

ڈین ہوٹل کا کمرہ نمبر 47

مصنف ڈین ہوٹل کے کمرہ نمبر 47 میں ٹھہرے ۔ کھنڈرات بتاتے تھے کہ عمارت کبھی شاندار ہوا کرتی تھی ۔ بوسیدہ قالینوں اور تنگدل مالک کے علاوہ سب کچھ کسی انگریز بہادر کی کشادہ فکر کا عکاس تھا ۔ کاؤنٹر کلر ک سے جب مصنف نے پی ۔آئی اے آفس کا پتا پوچھا تو اس کے بقول ہوٹل کے پچھاوڑے میں ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہے تاہم مصنف سوا میل کا فاصلہ طے کر کے وہاں پہنچے تو پشاور کی سیر کا شوق دم توڑ گیا ۔

ڈاکٹر گلبرگ سے ملاقات

پشاور ائیرپورٹ پر مصنف کی ملاقات ڈنمارک کے ایک ڈاکٹر گلبرگ سے ہوئی جو ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ مصنف بھی تھے ۔ انھوں نے ایک معروف تصنیف “اسکیمیو ڈاکٹر” کے مواد کی خاطر گرین لینڈ کا سفر بھی کیا تھا ۔ کتابی مواد کے حصول کے لیے انہوں نے برف کے جھونپڑوں کے مکینوں کی صحبت اختیار کی اور ان کی عادات بھی اپنائی ۔ اب وہ اور ان کی اہلیہ ایشیا اور مشرقِ بعید کے مطالعاتی دورے پر تھے ۔ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی سیر کے دوران ہندوستان میں گاؤماتا کے پجاریوں سے بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلے تھے ۔ ڈاکٹر گلبرگ پشاور اور پشاور والوں سے خوش اور ہوٹل والوں سے نہ خوش تھے ۔

مسز گلبرک کی فرمائش

کابل میں اصلی گدھوں کے درشن زر نگار پارک  کے سامنے ہوئے جہاں ان کے پالان سنگتروں سے بھرے ہوئے تھے ۔ یہاں سنگترے تل کر  بکتے  تھے ۔مسز گلبرک کی فرمائش پر مصنف نے بھاؤ تاؤ کی ناکام کوشش کر کے چار سنگترے خریدے جس پر محترمہ ان کی بہت شکر گزار ہوئیں ۔

افغانستان اور سرکاری پبلشر

مصنف چونکہ اقوام ِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی وساطت سے کابل سدھارے تھے اسی سلسلے میں انہیں کسی پبلشر سے ملنے کی ضرورت تھی  مگر پتہ چلا کہ کہ افغانستان میں پانچ سرکاری مطبعوں کے علاوہ  طباعت اور کتاب گھروں کا رواج نہیں ۔ مصنف نے قحطِ کتب و اشاعت کا واحد فائدہ بیہودہ اور غیر اخلاقی ناولوں کی عدم دستیابی کو قرار دیا ۔

افغانستان کی قدامت پسندی

کابل روانگی سے قبل مصنف نے پڑھ رکھا تھا کہ درہ خیبر کے اُس پارسر زمینِ افغانستان پر قدم رکھتے ہی آپ ایک صدی پیچھے پہنچ جاتے ہیں ۔مطبعوں کے علاوہ وہاں ریلوے نام کا کوئی شیطانی چرخہ بھی نہیں ۔ شاہ امان اللہ کے عہد میں دارالامان بستی تک ایک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی جسے ایک ماشکی کے بیٹے نے شاہ کو شکست دے کر ، فرنگیوں کی بدعت قرار دے کر اکھاڑ پھینکا تھا ۔ اب یہ آثار قدیمہ کا ایک نمونہ تھی ۔

دریائے کابل کا نقشہ

دریائے کابل کسی نکاسی آب کے نالے سے کم بدبودار نہ تھا ۔ شہر کے بیچوں بیچ شرمندہ شرمندہ  سا بہتا  تھا اور ان دنوں  خواتین  کےکپڑے دھونے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا البتہ گرمیوں میں برف پگھلنے کے بعد اس مردے میں جان پڑ جاتی تھی ۔ حکومت  بہم رسانی آب کے لیے اب  پائپوں کے ذریعے گھروں تک پانی پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ فی الحال سقوں کا راج ہے ۔ ایک سقا تو ملک کا بادشاہ بھی رہا لیکن یہ ایک الگ کہانی ہے۔

ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں کا خلاصہ
ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں کا خلاصہ

 

0 thoughts on “ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں سبق کا خلاصہ”

  1. پسند اپنی اپنی۔۔مجھ بد ذوق کو یہ سفرنامہ جو خبرنامہ لگتا ہے قطعا ۔متاثر نہ کرسکا۔۔۔۔۔

    Reply

Leave a Comment