تاریخی مقام کی سیر کے حوالے سے دوست کو خط

 تاریخی مقام کی سیر کے حوالے سے دوست کو خط 2021 اردو syllabus کا اہم خط ہے۔ تاریخی سیر پر مضمون تو اکثر لکھنے کو کہا جاتا ہے لیکن تاریخی مقام کی سیر کا احوال دوست کو بتانے کے لیے  ؛  خط بھی وقتاً فوقتاً آجاتا ہے۔جس میں تاریخی مقامات کی اہمیت کے حوالے سے بات کرنا زیادہ مناسب ہے۔

امتحانی مرکز

10۔ جون 2021ء

عزیزم!

                   السلامُ علیکم!

                                                الحمداللہ میں خیریت سے ہوں۔امید ہے تم بھی ہشاش بشاش ہو گے اور پوری توجہ اور محنت کے ساتھ باقی ماندہ پرچوں کی تیاری میں مگن ہو گے ۔ اللہ سے دُعا گُو ہوں کہ تم اعلی نمبرات سے اپنی ایف ۔ایس ۔سی میں کامیابی حاصل کرو ۔

                عزیزم  ! میں آج  ہی کھیوڑا کان کے تاریخی  اور یاد گار سفر سے واپس آیا ہوں ۔میں نے تمھیں بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی لیکن تم اپنے امتحان کی وجہ سے نہ جا سکے۔تمھارے پچھلے خط میں  کھیوڑا کے تاریخی مقام کے متعلق جاننے کااشتیاق اس قدر زیادہ   تھا کہ  گھر پہنچتے ہی میں نے  اس تاریخی سفر کے تاثرات اور مشاہدات کو صفحہ قرطاس پر قلم بندکرکے تمھیں بھیجنا مناسب سمجھا۔

                                عزیزم ! کھیوڑہ نمک کی مشہور  کان  صوبہ  پنجاب کے ضلع جہلم میں واقع ہے۔ کھیوڑا کا مقام  اسلام آباد سے 160 کلو میٹر اور لاہور سے تقریبا 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔تاریخی اعتبار سے کھیوڑہ  کی کان جنوبی ایشیا کی قدیم ترین کان  ہے اور دنیا میں دوسرا بڑا  قدرتی  اورخوردنی نمک کا ذخیرہ ہے ۔عظیم  سکندر اعظم  322 ق۔ م  میں کھیوڑا سے گزرا  تو فوج کے ساتھ موجود  گھوڑوں نے  یہاں کے  نمکین پتھر چاٹنا شروع کیے تو ایک فوجی نے پتھر کو چاٹ کر دیکھا تو اسے نمکین پایااس طرح  نمک کی کان دیافت ہوئی۔ اس کے بعد یہ کان مقامی راجاؤں نے خرید لی  ۔  1947ء تک یہ کان  جنجوعہ راجوں کی ملکیت میں  رہی۔

                کھیوڑہ کی کان زمین کے نیچے   110 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلی  ہوئی  ہے۔ کان کنی کے دوران اس کی  19 منزلیں بنائی گئی ہیں جن میں سے 11 منزلیں زیر زمین ہیں ۔ کان کی سب سے لمبی سرنگ کی  کل لمبائی  750 میٹر  ہے ۔  کھیوڑا کان  سے سالانہ  نمک کی پیداوار  325000 ٹن ہوتی ہے ۔کھیوڑا  کان کے اندرچند ایسی  عماراتیں بھی تعمیر کی گئی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے  ۔کان سےپانی کی نکاسی کے لیے پرنالوں کا وسیع  نظام بھی موجود ہے۔ پہاڑوں  سے رسنے اور بارش کے پانی کو نمکین پانی کے تالابوں میں جمع کیا جاتا ہے  ۔  جن پر نمک ہی کے بنے ہوئےدیدہ زیب پل بنائے گئے ہیں۔کھیوڑا نمک کی کان کو دمہ کے مرض میں کے لیے  مفید جانا جاتا ہے ۔ اس لیے ایک تجرباتی مطب  بھی اس کے اندر قائم کیا گیا ہے۔

سیاحوں کی دلچسپی  کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے  کان میں مختلف قسم کےعمارتی  ماڈلز  کے ساتھ ساتھ انسانی مجسمے بھی بنائے گئے ہیں جن میں نمک پتھر کی رنگین اینٹوں سے بنا مینارِپاکستان کا ماڈل ، دیوار چین کا  ماڈل  ،  قومی شاعر علامہ محمد اقبال کا مجسمہ شامل  ہیں ۔ ان میں سب سے زیادہ  مشہور نمک کی اینٹوں سے بنائی گئی ایک خوبصورت   مسجد ہے جس کو بجلی کے قمقموں کے ذریعے سجایا گیا ہے  ۔، نمک کی اینٹوں سے بنایا گیا شیش محل اور مری کے مال روڈ  کا  ماڈل نمایاں ہیں۔سیاحوں کی کھانے پینے کے لیے ایک ہوٹل بھی موجود ہے ۔ میں تو  سمجھتا ہوں  کہ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کو  کھیوڑا  جیسے تاریخی ورثے اور  منفرد جگہوں کی سیر کر وائیں تاکہ بچوں میں مشاہدے کی استعداد  کے ساتھ تاریخی واقعات اور  مقامات  سے متعلق علوم میں بھی اضافہ ہو سکے ۔

                جیسے ہی تمھارا امتحان ختم ہو تو  مجھے  خط ضرور لکھنا ۔ تمھاری ذہنی و اعصابی  تھکان کو ختم کرنے کے لیے میرے پاس ایک تفریحی پروگرام ہے اور میں یہ سفر  تمھارے جیسے باذوق اور بے تکلف دوست کے بغیر نہیں کرنا چاہتا ۔میری دلی خواہش ہے ہم  اس  تفریحی سفر پر ساتھ روانہ ہوں۔اصل میں تو تجدیدِ ملاقات مقصد ہے ۔گھر میں سب کو میری طرف سے سلام۔

                                                                تمھارے محبت نامے کا انتطار رہے گا۔

والسلام

تمھارا دوست

الف۔ب۔ج

 

Leave a Comment