دستک سبق کا خلاصہ

دستک سبق کے مصنف مشہور ڈراما نویس میرزا ادیب ہیں ۔ یہ ڈراما ان کے مجموعے” پسِ پردہ” سے لیا گیا ہے۔

دستک

ڈراما نگار :  مرزا ادیب

خلاصہ

سردیوں کی ایک طوفانی رات ڈاکٹر زیدی اپنے کمرے میں پلنگ پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے کسی سوچ میں گم تھے ۔ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے نقاہت اور سردی کا احساس بڑھا ہوا تھا ان کی تیمارداری کے لیے بیگم زیدی بھی اسی کمرے میں موجود تھیں باہر ہوا کا شور بڑھ رہا تھا  ۔ اچانک سامنے کے دروازے کو دیکھ کر ڈاکٹر زیدی کچھ بڑبڑانے لگے ۔ بیگم کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ باہر دروازے پر دستک ہو رہی ہے ۔ بیگم زیدی نے ایسی کسی آواز کو نہیں سُنا تھا ۔ ان کا خیال تھا کہ ہوا کے شور کی وجہ سے انھیں یہ آواز سنائی دی ہو گی ۔لیکن ڈاکٹر زیدی بضد تھے کہ باہر دستک ہو رہی ہے ۔ پھر یہ دستک وہ زیادہ شدت سے سننے لگے ۔ ڈاکٹر زیدی  جب اٹھ کر خود دیکھنے  جانے لگے تو بیگم زیدی نے ان کو منع کیا اور خود دروازے کی طرف گئی اور واپس آکے بتایا کہ باہر کوئی نہیں ہے لیکن ڈاکٹر کو دستک مسلسل سنائی دے رہی تھی ۔  بیگم نے ڈاکٹر کو حقیقت پسند بننے کو کہا تاکہ وہ وہم کا شکار نہ ہو ۔ڈاکٹر زیدی اس کو وہم ماننے کے لیے تیار نہ تھے ۔ آدھی رات ، باہر تُندوتیز منہ زور ہوا کا شور اور ڈاکٹر صاحب کا وہم  ــــــــــــــ  بیگم زیدی  ، ڈاکٹر صاحب کی اس حالت سے پریشان تھیں ۔ڈاکٹر برہان نے بھی ڈاکٹر زیدی کو آرام کا مشورہ دیا تھا۔اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی یہ ڈاکٹر برہان تھے ایک ذمہ دار ، فرض شناس ، اور نو جوان ڈاکٹر    ــــــ     ڈاکٹر برہان  ، ڈاکٹر زیدی کی طبعیت سے مطمئن نہ تھے ۔ تھوڑی دیر میں بیگم زیدی چائے لے آئیں ۔ بیگم زیدی نے ڈاکٹر برہان کو ڈاکٹر زیدی کے وہم کے  بارے میں بتایا ۔ ڈاکٹر زیدی آنکھیں بند کیے سب سنتے رہے ۔ آخر ڈاکٹر برہان سے مخاطب ہو کر بولے اٹھارہ بیس برس پہلے جب ان کی پریکٹس زوروں پر تھی اور آرام کے لیے بھی وقت مشکل سے ملتا تھا ۔ تو  ایسی ہی ایک رات ایک بوڑھا ان کے گھر آیا تھا اس کا بیٹا پہلے بھی ڈاکٹر زیدی کے علاج  سے ہی اچھا ہوا تھا اس رات وہ سخت بیمار تھا بوڑھا ڈاکٹر زیدی کو ساتھ لیجانا چاہتا تھا  تھکاوٹ اور کاہلی کے ماتے ڈاکٹر زیدی نے معذرت کرنا چاہتی تھی  لیکن وہ بوڑھا منتیں کرتے کرتے ان کے کمرے میں  آ گیا تھا پھر نوکر نے اسے زبردستی نکال  تو دیا تھا مگر وہ دیر تک دروازے پر دستک دیتا رہا تھا ۔ ڈاکٹر زیدی وہ دستک سنتے سنتے سو گئے تھے ۔ صبح اٹھے تو ضمیر ملامت کر رہا تھا پھر ڈھونڈنے پر بھی وہ بوڑھا نہیں مل سکا تھا ۔ ڈاکٹر زیدی کے ماضی کا یہ قصہ سن کرڈاکٹر برہان نے انہیں بتایا کہ وہ اسی بوڑھے کا پوتا ہے جس کا باپ اس رات ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہا تھا ۔  یہ جان لینے کے بعد ڈاکٹر زیدی کو اب ضمیر کی وہ دستک مزید سنائی نہیں دینی چاہیے تھی۔

0 thoughts on “دستک سبق کا خلاصہ”

Leave a Comment