دوست کی والدہ کی وفات پر اظہارِ تعزیت کا خط

دوست کی والدہ کی وفات پر اظہارِ تعزیت کا خط smart syllabus کا سب سے اہم خط ہے۔ سالانہ امتحانات میں تعزیت کا خط اکثر آتا ہے۔ تعزیت کا اظہار ہمیشہ  دل سے کریں اور اپنے جذبات کا بہترین اظہار کرنے کے لیے مناسب الفاظ کا چناؤ کریں تاکہ پڑھنے والا بھی آپ کے جذبات کو محسوس کر سکے۔

امتحانی مرکز
10۔ جون 2021ء

عزیزم!

السلامُ علیکم!

  اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

پیارے دوست ! آپ کی والدہ محترمہ کی ناگہانی موت کی خبر ایک صدمے سے کم نہیں ہے ۔غم کی اس گھڑی اور رنج و الم کی کیفیت میں الفاظ تعزیت کا لبادہ اوڑھنے سے قاصر ہیں۔
                            عزیزم ! موت حضرتِ آدم کی میراث ہے۔ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔کیونکہ جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں۔ لیکن ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کے چہرے پر ہمیشہ نور ، آنکھوں میں محبت ، لہجے میں مٹھاس ، “آغوش ” محبت سے بھری ، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔”ماں“ جیسا لفظ دونوں ہونٹوں کے ملائے بغیر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتے ہیں تو اس کیلئے ماں کو بطورِ مثال پیش کرتے ہیں ۔ ماں کو ایک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی حج کا سا ثواب مل جاتا ہے۔بقول شاعر

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

عزیزم! آپ کی والدہ ماجدہ ایک سگھڑ اور سلیقہ شعار خاتون تھیں۔ان سے ملنے کا ایک ہی موقع ملا اور وہ ملاقات آپ کے بڑے بھائی کی شادی پر ہوئی تھی۔آج بھی سوچتا ہوں تو ان کا زیرک چہرہ،طلسماتی آواز اور اخلاق نگاہوں کے آگے سماں باندھ دیتا ہے ۔افسوس صد افسوس ! اب ہم ان کی شفقت و محبت سے محروم ہو گئے ہیں ۔لیکن یہی قانونِ فطرت ہے کہ جو آیا ہے اس کو جانا بھی ہے۔

 

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ ، کل ہماری باری ہے

پیارے دوست!بزرگوں کا سایہ باعثِ برکت ہوتا ہے ۔والدہ کی وفات ایک ناقابل تلافی نقصان ہے کیونکہ ان کی زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات کو پورا کرنے میں گزر جاتی ہے ۔بہرحال ان کی جدائی ایک ناگزیز حقیقت ہےاس کو تسلیم کرنا اور صبر کا دامن تھامے رکھنا ہی وقت کا تقاضا ہےاور اس احساس کو بھی تسلیم کرنا چاہیےکہ

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں

میری اللہ سے دعا ہے کہ مرحومہ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔آمین اللہ تعالیٰ صبروہمت سے تمھیں یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔میری طرف سے محترم چچا جان سے بھی تعزیت کرنا۔میں بہت جلد لاہور آنے کی کوشش کروں گا۔

والسلام
شریکِ غم
الف۔ب۔ج

PDF DOWNLOADING

2 thoughts on “دوست کی والدہ کی وفات پر اظہارِ تعزیت کا خط”

Leave a Comment