سید ضمیر جعفری کی نظم ” آدمی ” کا خلاصہ

سید ضمیر جعفری کی نظم ” آدمی ” کا خلاصہ بہت اہم ہے ۔نظم “آدمی” بارھویں جماعت  سرمایہ اردو ( اردولازمی ) کی چھٹی نظم  ہے ۔ جس کے شاعر سید ضمیر جعفری  ہیں اور یہ نظم ان  کی کتاب “نشاطِ تمنا” سے لی گئی ہے ۔  بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈز کے سالانہ امتحانات میں سب سے زیادہ اسی  نظم  کا خلاصہ  آتا ہے ۔

شاعر: سید ضمیر جعفری

آدمی

خلاصہ

دستِ قدرت کا حسین ترین شاہکار ــــــــ انسان (آدمی) ، جو کبھی علم و محبت کا مسکن تھا آج دولت ، بنگلے اور گاڑیوں کا نام ہے  ۔کہنے کو آج کے آدمی کی نزاکت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے  کہ  انسان نے زندگی کا معیار اتنا بلند بنا رکھا ہے کہ کوئی بھی اس کو حاصل نہ کر پائے ۔ اور زندگی کسی اجنبی کی طرح انسانی آبادیوں  میں پھرتی رہے ۔ اس معیار کو مدِ نظر رکھیں تو قیس آج کے آدمی سے کہیں بڑھ کر  دانا تھا ۔ جس نے صحراؤں کی خاک چھانی مگر عمر بھر گھرداری کے  جنجال سے کوسوں دور  رہا ۔ آج فکرو فلسفہ اور سائنس کی چکا چوند روشنی کے باوجود ہر شخص ناخوش ہے ۔ آج کے آدمی کی آگاہی دوسروں کے لیے عذاب ہے ۔ تضادات کے اس مجموعہ آدمی کا دل عبادت گاہوں میں اور عقل وخرد رونقِ میخانہ ہے ۔ اس حیوانِ ظریف کی کشتی پہلے تو نگاہوں کے سامنے ہی ڈوب جاتی تھی مگر اس تہذیب کا رکھوالا اب سات سمندر پار جاکر غرق ہو گا۔

 

Leave a Comment