شعری اصلاحات قافیہ ردیف مطلع مقطع

شعری اصلاحات کا سوال انٹرمیڈیٹ سالِ اول کے معروضی پرچہ میں آتا ہے جس کے 5 نمبر ہوتے ہیں ۔ شاملِ نصاب میں قافیہ ، ردیف ، مطلع اور مقطع شامل ہیں ۔

شاعری

  • شاعری لفظ “شعر”  سے ماخوذ  ہے شعر کے معنی ” کسی چیز کے جاننے  ،پہچاننے اور واقفیت”  کے  ہیں۔
  • قصداً کہا جانے والا کلامِ موزوں شعر یا  شاعری کہلاتا ہے ۔جو  انسانی جذبات اور احساسات کے تحت لکھا جاتا ہے ۔
  • یہ کلام موزوں جذبات اور احساسات کے تابع ہو کر کسی واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
  • دوسرے الفاظ میں موزوں الفاظ میں حقائق کی تصویر کشی کو بھی شاعری کہتے ہیں۔
  • شاعری کا پہلا اور لازمی  عنصر  ” وزن  “ہے اور دوسرا عنصر   ” خیال  ہے ۔
  • حقیقت کو وزن اور خیال کے سانچے میں ڈھالنا ہی کمالِ سُخنوری ہے۔

شعر

  • شعر کا لفظ  “شعور  ” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے  کسی چیز کو جاننا ۔
  • جدید ادبی اصطلاح میں ایسا  کلام جو کسی واقعے یا موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہواور اس کے کہنے کا کوئی مقصد بھی ہو شاعری کہلاتا ہے ۔
  • اردو  شعر ی اصناف کی مختصر ترین صورت   شعر یعنی بیت ہے ۔
  • شعر دو سطور پر مشتمل ہوتا ہے ۔
  • شعر کی ہرسطر کو  “مصرع  “کہا جاتا ہے۔
  • مصرع عربی زبان کا لفظ ہے ۔
  • “دروازے کے ایک کواڑ” کو بھی   “مصرع  ” کہتے ہیں ۔
  • ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔
  • پہلے مصرعے کو مصرع اولیٰ اور دوسرے کو مصرع ثانی کہتے ہیں
  • غزل کے تمام اشعار (ہرایک شعر کو) کو ” بیت  ” کہتے ہیں۔
  • شاعری میں اکیلا شعر ”  فرد ” کہلاتا ہے ۔
  • “نصف فرد” سے مراد  مصرع ہے۔
  • غزل کا سب سے اچھا شعر “بیت الغزل ”  یا     “شاہ بیت  “کہلاتا ہے۔

شعری اصلاحات

ردیف اور قافیہ

  • شعری اصلاحات میں ردیف اور قافیہ بہت اہم ہیں ۔ ان کے بغیرصنفِ نظم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
  • جس طرح شاعری میں بحور اور زمیں خاص اہمیت کی حامل ہیں بالکل اسی طرح ردیف اور قافیہ اصنافِنظم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
  • قافیہ اور ردیف کے بغیر نظم ،نظم نہیں لگتی اوران کے بغیر اصنافِ نظم میں ترنم بھی پیدا نہیں ہوتا۔
  •  

قافیہ

  • قافیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔
  • قافیہ کا لفظ “قفو” سے نکلا ہے۔
  • قفو کے معنی  “پیروی کرنے کے ”   ہیں
  • قافیہ کے لغوی معنی “ پیچھے آنے والے“ کے ہیں۔
  • قافیہ کے لغوی معنی “ پے در پےآنے والے“ کے بھی ہیں۔
  • قافیہ کی جمع قوافی ہے ۔
  • وہ الفاظ جو وزن اور صورت کے لحاظ سے ہم آہنگ ہوں  قافیہ کہلاتے ہیں۔
  • قافیہ کے اصلاحی معنی ہم وزن ، ہم آواز الفاظ جو غزل یا قصیدے کے ہر شعر کے آخر پر آئیں۔
  • قافیہ “ شعر کا آخری کلمہ “ ہے۔
  • غزل کے لیے ضروری قافیہ ضروری ہے۔
  • اردو میں قافیہ ان حروف اور حرکات کا مجموعہ ہے۔ جوالفاظ کےساتھ غیرمستقل طور پرشعر یا مصرعے کے آخر میں باربار آئے۔
  • قافیہ ابیات کے آخر میں واقع ہوتا ہے یا ایک قافیہ دوسرے قافیہ کے پیچھے آتا ہے لہذا اس نام سے موسوم ہوا۔
  • غزل اور قصیدے میں قافیہ، مطلع کے دونوں مصرعوں کے آخر میں آتاہے۔
  • مثنوی کے ہرمصرعے کے آخر پر قافیہ آتا ہے ۔
  • قطعہ کے مصرع ثانی کے آخر میں قافیہ آتا ہے ۔
  • غزل کے مصرعہِ ثانی میں قافیہ لازمی ہوتا ہے
  • غزل اور قصیدے کے باقی اشعار ( ماسوائے مطلع ) میں بھی مصرع ثانی کے آخر میں آتا ہے۔ 
  • شاعری میں ترنم اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے قافیہ کا استعمال لازم و ملزوم تصور کیا جاتا۔

مثال نمبر1

غالب ؔ کا مشہور شعر اور قوافی

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

اس شعر کے قوافی

تحریر اور تصویر

مثال نمبر2

میر تقی میرؔ کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور قوافی

گُل کو ہوتا صبا ! قرار اے کاش!۔

رہتی ایک آدھ دن ، بہار اے کاش!۔

اس شعر کے قوافی

قرار اور بہار

مثال نمبر3

حیدر علی آتشؔ کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور قوافی

یہ آرزو تھی ،تجھے گُل کے رُوبرو کرتے

ہم اور بلبلِ بےتاب، گُفتگو کرتے

اس شعر کے قوافی

روبرو اور گفتگو

مثال نمبر4

داغ ؔ دہلوی کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور قوافی

پھرے راہ سے وہ ، یہاں آتے آتے

اجل مر رہی تُو ، کہاں آتے آتے

اس شعر کے قوافی

تحریر اور تصویر

مثال نمبر5

مومن خاں مومن ؔ کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور قوافی

اثر اس کو ، ذرا نہیں ہوتا

رنج ، راحت فزا نہیں ہوتا

اس شعر کے قوافی

ذرا اور فزا

مثال نمبر6

حسرت موہانی کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور قوافی

بُھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

الہی ترکِ الفت پر ، وہ کیوں کر یاد آتے ہیں

اس شعر کے قوافی

برابر اور کیونکر

مثال نمبر7

فیض احمد فیض کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور قوافی

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ،کب ہات میں تیرا ہات نہیں

صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

اس شعر کے قوافی

تحریر اور تصویر

مثال نمبر8

احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور قوافی

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا ، مرا تنہا ہونا

آتش و آب کا ممکن نہیں ، یک جا ہونا

اس شعر کے قوافی

تنہا اور یکجا

ردیف

  • ردیف کےمعنی گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والے کے ہیں۔
  • شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد قافیہ کے بعد بابار دہرائے جانے والے الفاظ ردیف کہلاتے ہیں ۔
  • قافیہ کے بعد جو الفاظ مسلسل تکرار سے آئیں ردیف کہلاتے ہیں۔
  • ردیف کے الفاظ ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں۔
  • شعر میں من وعن دہرائے جانے والےالفاظ “ردیف ”   کہلاتے ہیں۔
  • ردیف غزل کے لیےضروری نہیں ہیں۔
  • جس غزل میں ردیف ہو اس کو ” مردًف غزل” کہتے ہیں۔
  • جس غزل میں ردیف نہ ہو اس کو غیر مردف غزل کہتے ہیں۔
  • ایک یا دو مستقل کلمے جو قافیہ کے بعد دوہرائے جاتے ہوں ردیف کہلاتے ہیں؟
  •  

مثال نمبر1

غالب ؔ کا مشہور شعر اور ردیف

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

اس شعر میں ردیف ہے

کا

مثال نمبر2

میر تقی میرؔ کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور ردیف

گُل کو ہوتا صبا ! قرار اے کاش!۔

رہتی ایک آدھ دن ، بہار اے کاش!۔

اس شعرمیں ردیف ہے

اے کاش

مثال نمبر3

حیدر علی آتشؔ کی غزل نمبر 2 کا مطلع اورردیف

یہ آرزو تھی ،تجھے گُل کے رُوبرو کرتے

ہم اور بلبلِ بےتاب، گُفتگو کرتے

اس شعر میں ردیف ہے

کرتے

مثال نمبر4

داغ ؔ دہلوی کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور ردیف

پھرے راہ سے وہ ، یہاں آتے آتے

اجل مر رہی تُو ، کہاں آتے آتے

اس شعرمیں ردیف ہے

آتے آتے

مثال نمبر5

مومن خاں مومن ؔ کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور ردیف

اثر اس کو ، ذرا نہیں ہوتا

رنج ، راحت فزا نہیں ہوتا

اس شعر میں ردیف ہے

نہیں ہوتا

مثال نمبر6

حسرت موہانی کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور ردیف

بُھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

الہی ترکِ الفت پر ، وہ کیوں کر یاد آتے ہیں

اس شعر میں ردیف ہے

یاد آتے ہیں

مثال نمبر7

فیض احمد فیض کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور ردیف

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ،کب ہات میں تیرا ہات نہیں

صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

اس شعر میں ردیف ہے

نہیں

مثال نمبر8

احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل نمبر 2 کا مطلع اور ردیف

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا ، مرا تنہا ہونا

آتش و آب کا ممکن نہیں ، یک جا ہونا

اس شعر میں ردیف ہے

ہونا

مطلع

  • مطلع عربی زبان کا لفظ ہے۔
  • مطلع کا لغوی معنی طلوع ہونے کے ہیں۔
  • مطلع کے اصطلاحی معنی غزل یا قصیدے کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔
  • غزل کا چہرہ مطلع کو کہتے ہیں۔
  • مطلع  کے بعد آنے والے   دوسرے  شعر کے دونوں مصرعے  بھی ہم قافیہ ہوں تو اس کو ”  مطلع ثانی”کہیں  گے۔
  • مطلع ثانی کو ” حُسنِ مطلع  ” بھی کہتے ہیں۔
  • مطلع ثانی کے بعد آنے والے  تیسرے  شعر کے دونوں مصرعے  بھی ہم قافیہ ہوں تو اس کو ”  مطلع ثالث  “کہیں  گے۔
  • غزل کے علاوہ ”  قصیدہ  ” وہ صنف  شاعری ہے جس کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔
  • مطلع ہونے کی دو شرائط ہیں ۔
  1. غزل یا قصیدے کا پہلا شعر ہو۔
  2. دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔

میر تقی میرؔ کی غزل نمبر 2 کا مطلع

گُل کو ہوتا صبا ! قرار اے کاش!۔

رہتی ایک آدھ دن ، بہار اے کاش!۔

حیدر علی آتشؔ کی غزل نمبر 2 کا مطلع

یہ آرزو تھی ،تجھے گُل کے رُوبرو کرتے

ہم اور بلبلِ بےتاب، گُفتگو کرتے

داغ ؔ دہلوی کی غزل نمبر 1 کا مطلع اور قوافی

پھرے راہ سے وہ ، یہاں آتے آتے

اجل مر رہی تُو ، کہاں آتے آتے

مومن خاں مومن ؔ کی غزل نمبر 1 کا مطلع

اثر اس کو ، ذرا نہیں ہوتا

رنج ، راحت فزا نہیں ہوتا

حسرت موہانی کی غزل نمبر 1 کا مطلع

بُھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

الہی ترکِ الفت پر ، وہ کیوں کر یاد آتے ہیں

فیض احمد فیض کی غزل نمبر 2 کا مطلع

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ،کب ہات میں تیرا ہات نہیں

صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل نمبر 2 کا مطلع

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا ، مرا تنہا ہونا

آتش و آب کا ممکن نہیں ، یک جا ہونا

مقطع

  • مقطع عربی زبان کا لفظ ہے۔
  • مقطع عربی کےلفظ “قطع” سے ماخوذ ہے ۔
  • مقطع کے لغوی معنی کاٹنے یا قطع کرنے کے ہیں ۔
  • غزل یا مقطع کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرے مقطع کہلاتا ہے۔
  • مقطع غزل کےلیے ضروری نہیں ہے۔
  • شاعر حضرات عموما اپنا تخلص” مقطع  ” میں استعمال کرتے ہیں۔
  •  

میر تقی میرؔ کی غزل نمبر 1 کا مقطع

ٹُک میرؔ جگر سوختہ کی ،جلد خبر لے

کیا یار بھروسا ہے ،چراغِ سحری کا

حیدر علی آتشؔ کی غزل نمبر 2 کا مقطع

نہ پُوچھ ، عالم ِ برگشتہ طالعی ،آتشؔ

برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

داغ ؔ دہلوی کی غزل نمبر 1 کا مقطع

نہیں کھیل اے داغؔ ! یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں ،آتے آتے

مومن خاں مومن ؔ کی غزل نمبر 1 کا مقطع

کیوں سنے عرضِ مضطرب ، مومنؔ

صنم آخر خدا نہیں ہوتا

حسرت موہانی کی غزل نمبر 1 کا مقطع

حقیقت کُھل گئی حسرتؔ،ترے ترکِ محبت کی

تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی ، بڑھ کر یاد آتے ہیں

احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل نمبر 1 کا مقطع

شاعری روزِ ازل سے تخلیق ہوئی ، ندیمؔ

شعر سے کم نہیں ، انسان کا پیدا ہونا

تخلص

  • تخلص عربی زبان کا لفظ ہے۔
  • شاعر یا ادیب اصلی نام کی بجائے جو قلمی نام استعمال کرتے ہیں ان کو تخلص کہتے ہیں ۔
  • لیکن اکثر شاعر یا ادیب  اصلی نام ہی استعمال کرتے ہیں  ۔مثلاً  اقبال ؔ ،میرؔ اور غالب ؔ   وغیرہ
  •  

میر تقی میرؔ کی غزل نمبر 1 کا مقطع

ٹُک میرؔ جگر سوختہ کی ،جلد خبر لے

کیا یار بھروسا ہے ،چراغِ سحری کا

اس شعر میں " میرؔ" بطورِ تخلص آیا ہے۔

داغ ؔ دہلوی کی غزل نمبر 1 کا مقطع

نہیں کھیل اے داغؔ ! یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں ،آتے آتے

اس شعر میں " آتش ؔ" بطورِ تخلص آیا ہے۔

مومن خاں مومن ؔ کی غزل نمبر 1 کا مقطع

کیوں سنے عرضِ مضطرب ، مومنؔ

صنم آخر خدا نہیں ہوتا

اس شعر میں " داغ ؔ" بطورِ تخلص آیا ہے۔

حسرت موہانی کی غزل نمبر 1 کا مقطع

حقیقت کُھل گئی حسرتؔ،ترے ترکِ محبت کی

تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی ، بڑھ کر یاد آتے ہیں

اس شعر میں " حسرتؔ" بطورِ تخلص آیا ہے۔

احمد ندیمؔ قاسمی کی غزل نمبر 1 کا مقطع

شاعری روزِ ازل سے تخلیق ہوئی ، ندیمؔ

شعر سے کم نہیں ، انسان کا پیدا ہونا

اس شعر میں " ندیم ؔ" بطورِ تخلص آیا ہے۔

3 thoughts on “شعری اصلاحات قافیہ ردیف مطلع مقطع”

Leave a Comment