قرطبہ کا قاضی سبق کا خلاصہ

قرطبہ کا قاضی سبق کا خلاصہ  : قرطبہ کا قاضی” سبق سید امتیاز علی تاج کی کتاب “قرطبہ کا قاضی اور دوسرے یک بابی کھیل” سے لیا گیا ہے۔”جس میں مختلف یک بابی ڈرامے  پیش کیے گئے ہیں۔

 سبق “قرطبہ کا قاضی” بارھویں جماعت کا سب سے اہم سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں  وقتاً فوقتاً  آتا رہتا ہے ۔

 

 :خلاصہ کی تعریف

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے

سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔

سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔

سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا

  اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔

سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

خلاصہ

 قاضی یحییٰ بن منصور کی عدالت کا منظر

غرناطہ میں قاضی یحییٰ بن منصور کے بیٹے زبیر نے اپنے رقیب کو قتل کر دیا تھا ۔ جس پر قاضی نے مجرم کو پھانسی کا فتویٰ دیا ۔

  زبیر اور حلاوہ دایہ کا مکالمہ

سولی چڑھائے جانے والے دن ، صبح کے دھندلکے میں ، زبیر کی دایہ ایک ایوان میں گھٹنوں پر سر دھرے بیٹھی تھی کہ اتنے میں خانہ زاد عبداللہ وہاں آیا اور شمعیں گُل کیں ۔ حلاوہ اس کالی صبح کے سوگ میں بیٹھی بار بار زبیر کو پھانسی دیے جانے کی تکرار کر رہی تھی جو اپنی مامتا کی نگاہوں سے اس کی لاش کو سولی پر جھولتے دیکھ چکی تھی ۔ عبداللہ کا ایسی منحوس باتوں سے جی جلتا تھا اسے یقین تھا کہ پورے شہر میں ایسا کوئی بھی شخص نہیں ہے جو زبیر کو قصوروار سمجھتا ہو یا قاضی کے فتوے کی تعمیل کے لیے آمادہ ہو لیکن حلاوہ اپنی بے نور آنکھوں سے نہیں بلکہ مامتا کی بینائی سے وہ ہولناک منظر دیکھ چکی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ اگر شہر میں سے کوئی نہیں تو باہر سے  کوئی شخص  پھانسی دینے کے لیے بلا لیا جائے گا اور قاضی کے فتوے کی تعمیل ضرور ہو گی ۔ شہر کے محافظ تمام راستوں پہ چوکس کھڑے تھے کسی ایسے شخص کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں تھی جو یہ حلف نہ لے کہ

پھانسی گھاٹ کا منظر

اسے زبیر کے معاملے سے کوئی سروکار نہ ہو گا ۔ مقتول ، زبیر کا رقیب ہی نہیں قاضی کا مہمان بھی تھا ۔ زبیر نے محبت کی جلن  کے سبب یہ قتل کیا تھا ۔ حلاوہ جانتی تھی کہ اس ہونی کو خود زبیر بھی نہیں ٹال سکتا تھا ۔ ایوان کے باہر سولی گھاٹ پر موجود مجمع میں کوئی شخص بھی قاضی کے حکم کے لیے تیار نہیں تھا ۔

قرطبہ کےقاضی یحیٰی بن منصور کی آمد

اسی اثناء میں بالائی کمرے سے قاضی یحییٰ بن منصور نیچے ایوان میں آئے ۔ جب اسے معلوم ہوا کہ مجرم کو پھانسی دینے پر مقرر شخص شہر سے جا چکا ہے اور باقی ماندہ لوگوں میں سےعبداللہ سمیت کوئی بھی حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تو اس نے ناظر عدالت کے افسران کو طلب کیا اس وقت حلاوہ نے آخری بار ایک قاضی نہیں بلکہ ایک باپ کی محبت کو جگانے کی بے سود کوشش کی ۔ آنے والے افسروں میں سے بھی کوئی اس فرض کو نبھانے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ کیونکہ وہ بھی زبیر کو بے قصور سمجھتے تھے ۔ پھر قاضی نے مجمعے سے مخاطب ہو کر انصاف کا تقاضا پورا کرنے کو کہا مگر کوئی بھی اس پھانسی کو انصاف نہیں جانتا  تھا ۔

قرطبہ کے قاضی یحیٰی بن منصور کا خود فتوے پر عمل کرنا

کچھ دیر توقف کے بعد قاضی نے مجرم کو تختہ دار پر لے جانے کا حکم دیا ۔ قیدی نے گزرتے ہوئے ایک بار قاضی کی طرف دیکھا جو دوسری طرف منہ کیے ساکت کھڑا تھا ۔ کوسِ رحلت کی آواز نے بے جان قاضی کے قدموں  میں جنبش پیدا کر دی وہ بھی باہر پھانسی گھاٹ کی جانب چل دیا ۔ مجمعے پر ایک ہیبت طاری ہوگئی ۔ حلاوہ اس آخری گھڑی میں اپنی مامتا کا ماتم کرنے لگی ۔ زبیر نے قاضی کے ہاتھوں کو چوما اور اس کے ساتھ ہی کوسِ رحلت بجنا بند ہو گیا ہجوم میں سے گریہ اور آہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں ۔ تھوڑی دیر بعد قاضی لڑ کھڑاتے قدموں کے ساتھ ایوان میں آیا ایک بار رک کر خالی زندان کی طرف دیکھا اور پھر لڑکھڑاتے ہو ئے بالائی ایوان میں چلا گیا اس نے پہلے دروازہ اندر سے مقفل کیا اور پھر کھڑکی بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دی۔

 قرطبہ کا قاضی سبق کا خلاصہ
قرطبہ کا قاضی سبق کا خلاصہ

2 thoughts on “قرطبہ کا قاضی سبق کا خلاصہ”

Leave a Comment