مناقب عمر بن عبدالعزیز خلاصہ /manaqib umar bin abdul aziz

 مناقب عمر بن عبدالعزیز

ؓ سبق علامہ شبلی نعمانی کی کتاب “مقالات ِ شبلی جلد چہارم ” سے لیا گیا ہے۔”جس میں اسلام کی  نامور شخصیات کے کارنامے اور شخصیت کو پیش کیا گیا ہے ۔

سبق “مناقبِ عمر بن عبدالعزیز” بارھویں جماعت کا سب سے اہم سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈز میں سب سے اہم زیادہ آنے والا خلاصہ”مناقب عمربن عبدالعزیز”کا ہی ہے۔

 

 :خلاصہ کی تعریف

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

  1. سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے
  2. سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔
  3. سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔
  4. سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔
  5. سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا۔
  6.   2 اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔
  7. سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

 

“مناقبِ عمر بن عبدالعزیز ؓ” مولانا شبلی نعمانی ؒکی کتاب “مقالات ِ شبلی” کی جلد چہارم سے  ماخوذ ہے جس کا موضوع سلاطین بنو امیہ  کے آٹھویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے ان اوصاف کا تذکرہ کرنا ہے جو ان کی ذات اور حکومت کا طُرہ امتیاز ہیں۔ “مقالات ِ شبلی” کو ان کے چہیتے شاگرد سید سلیمان ندوی  نےاپنے استاد محترم  مولانا شبلی نعمانی کی وفات کے بعد چار جلدوں میں مرتب کیا۔

خلاصہ

مناقب عمر بن عبدالعزیز

علامہ شبلی نعمانی اور علامہ ابنِ جوزی

علامہ شبلی نعمانی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ” الفاروق ” کے لیے مصر کے کُتب خانہ خدیویہ میں موجود علامہ ابن جوزی کی تحریر “سیرت العمرین” سے بھی استفادہ کیا ۔

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی خوبیاں

اسی کتاب کے حوالے سے وہ بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز  کے اخلاق کا نمایاں ترین پہلو ان کا غیر مسلموں سے  حسن ِ سلوک تھا ان کا یہ حسن سلوک ان کی شخصی حالت نہ تھی بلکہ دینِ اسلام کا حقیقی طرزِ عمل ہے اسی لیے وہ ” عمر ثانی ” کہلائے ۔

عیسائی کا واقعہ

ایک دفعہ حمص کے ایک عیسائی نےخلیفہ ولید بن عبدالملک کے بیٹے عباس کے خلاف زمین پر قبضہ کرنے کی شکایت کی ۔  یہ زمین ولید نے بیٹے کو جاگیر میں دی تھی عیسائی قرآن کا فیصلہ چاہتا تھا چنانچہ عمر بن عبدالعزیز نے وہ زمین عیسائی کو واپس  دلا دی ۔

بنو امیہ کی ناجائز کاروائیوں کا خاتمہ

بنو امیہ کے بادشاہوں کا طرزِ عمل بھی یہی تھا کہ سرکاری زمینیں اپنے خاندان کے نام لکھ دیتے تھے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے عنانِ سلطنت سنبھالتے ہی ان زیادتیوں کے اذالے کا فیصلہ کر لیا ۔خاندان والوں نے ان کی پھوپھی اُمِ عمر سے سفارش کروائی لیکن بات نہ بنی وہ خاندان کی مخالفت سے زیادہ روزِ قیامت  کی فکر میں تھے ۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنی خاندانی  جاگیروں کا فیصلہ کیا ان کا بیٹا عبدالملک بھی ان کے اس فیصلے میں ان کے ساتھ تھا ۔ بیٹے نے جب منادی کروا کے  لوگوں کو مسجد میں جمع کیا گیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے منبر پر کھڑے ہوکر کہا کہ جو جاگیریں ہمارے پاس ہیں نہ دینے والوں کو دینے کا حق تھا نہ ہمیں لینے کا ۔  چنانچہ زمینوں کی اسناد کو کینچی سے کتر ڈالا اور اس طرح زمینوں کی واپسی کا کام اپنے گھر سے شروع کیا ۔ اس کے بعد اپنے ایک قریبی عزیز ابنِ سلیمان کی زمین واپس کی ۔

اظہار رائے پر پابندی کا خاتمہ

خلیفہ عبدالملک بن مروان بن حکم نے اظہارِ رائے اور خلیفہ کے اعمال و افعال پر نکتہ چینی پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ سزا کے ڈر سے آزادی پسند عرب قدرے خاموش  تو ہو گئے تھے لیکن خلافتِ بنی امیہ سے بدظن بھی ہو گئے تھے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے نہ صرف اس بدعت کو ختم کیا بلکہ دو دیانتدار علماء مقرر کیے جو خلیفہ کے اپنے فیصلوں پر ٹو کنے کا مجاز رکھتے تھے ۔

غیر مسلموں سے حسن سلوک

ایک مرتبہ مسلمہ بن عبدالملک ایک متنازعہ زمین کے مقدمے میں حاضرِ دربار تھا اور خاندانی زعم کی وجہ سے بیٹھ کر گفتگو کرتا تھا جبکہ فریقِ مقدمہ کھڑے تھے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے اس تفریق کو ناپسند کیا اور آخر پر زمین کا فیصلہ بھی عیسائی متولیوں کے حق میں کیا ۔ وہ غیر مسلموں کے ہاں مدعو ہوتے تو کھانے کی قیمت ادا کر دیتے تھے ۔ وفات سے قبل اپنے مقبرے کے لیے جو زمین پسند کی وہ ایک عیسائی کی تھی عیسائی نذرانے میں وہ زمین دینا چاہتا تھا لیکن عمر بن عبدالعزیز نے اس کی قیمت ادا کی ۔ وہ مساوات اور جمہوریت کے قائل تھے مسلمانوں کے ساتھ لنگر خانہ سے کھانا کھاتے اور قیمت ادا کرتے تھے ۔

عمر بن عبدالعزیز کی وصیت

موت کے وقت عبدالملک نے عرض کی کہ وصیت کر جائیں ۔ عمربن عبدالعزیز نے کہا میرے پاس ایسی کوئی چیز جمع نہیں ہے جس کی وصیت کروں ۔ ان کی وفات کے وقت کل ترکہ سترہ دینار تھے جن میں سے تجہیز و تکفین کے بعد کل دس دینار بطورِ ترکہ ورثا میں تقسیم ہوئے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت دین اسلام کی کی سچی تصویر تھی ۔

مناقب عمر بن عبدالعزیز ؓ

مناقب عمر بن عبدالعزیز سبق کا خلاصہ
مناقب عمر بن عبدالعزیز سبق کا خلاصہ

Leave a Comment