مواصلات کے جدید ذرائع سبق کا خلاصہ

مواصلات کے جدید ذرائع سبق کا خلاصہ : مواصلات کے جدید ذرائع” سبق ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کا موصلات کی تاریخ پر ایک اہم معلوماتی مضمون ہے۔”جس میں مختلف مشہور مواصلات کے ذرائع  کو عمدہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔

 سبق “مواصلات کے جدید ذرائع” بارھویں جماعت کاطویل سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں  وقتاً فوقتاً  اس سبق کا خلاصہ آتا رہتا ہے ۔

 

 :خلاصہ کی تعریف

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے

سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔

سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔

سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا

  اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔

سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

خلاصہ

مواصلات کا آغاز

پیغام رسانی شروع ہی سے انسان کی ضرورت رہی ہے مواصلات کے ذرائع دو طرح کے ہیں ایک روایتی اور دوسرا سائنسی ۔ شروع شروع میں روایتی طریقے رائج تھے جن میں قاصد کے ذریعے پیغام بھیجنا اور کبوتر سے قاصد کا کام لینا اہم تھے ۔

مواصلات اور مسلمان

کبوتروں کو پیغام رسانی کے لیے مشرقِ وسطی کے ممالک کے علاوہ ہندوستان میں جہانگیر کے عہد میں باقاعدہ استعمال کیا گیا ۔ اس کے بعد “دیوان البرید” کے نام سے ڈاک کا محکمہ بنایا گیا جس میں گھوڑوں کا استعمال ہوا ۔ انیسویں صدی عیسوی میں ریل کے ذریعے ڈاک پہنچائی جانے لگی ۔

ٹیلی گرافی اور وائر لیس کی ایجاد

پھر 1838ء مین فنلے مورس نے ٹیلی گرافی کا آلہ ایجاد کیا ۔ میکس ویل کے نظریے کے مطابق ہرٹز نے ریڈیائی لہروں کو دریافت کیا ۔ اور مارکونی نے 1895ء میں وائرلیس ایجاد کیا ۔ ٹیلی گرافی کے آلے کے برعکس وائرلیس میں تاروں کی ضرورت نہ تھی بلکہ سورج کی تین لہروں ؛ مقناطیسی ، ریڈائی ، روشنی اور حرارت  کی لہروں میں سے ، ریڈائی لہریں پیغام رسانی کے لیے استعال ہو سکتی تھیں ۔ ان کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے جب کہ زمین کا قطر صفر چند ہزار میل ہے ۔ ڈاکٹر فلیمنگ نے نے وائرلیس کے لیے والو اور بارڈین اور برٹین نے ٹرانسسٹر ایجاد کیا ۔ جن سے موصول شدہ صوتی اشارے واضح طور پر سنائی دینے لگے اور ریڈیو ایجاد ہو گیا ۔

ٹیلیگراف ، وائرلیس اور ریڈیو سے پیغام رسانی

ٹیلیگراف ، وائرلیس اور ریڈیو میں پیغام رسانی کے مراحل سادہ ہیں ۔ آواز مائیکرو فون  سے برقی رو کی صورت میں ایمپلی فائر سے انٹینا کے ذریعے  فضا میں بھیجی جاتی ہے اور دوسری طرف  رسیور سے ٹرانسسٹر سے ہوتی ہوئی لاؤڈ سپیکر سے سنائی دیتی ہے ۔ اگلے مرحلے میں صوتی اشاروں کے علاوہ بصری اشارے بھیجنے  اور وصول کرنے کا کام شروع ہوا اور جان بئیرڈ نے ٹیلی وژن ایجاد کیا ۔

ٹیلی وژن اور جدید مواصلات

ٹیلی وژن اسٹیشن پر ویڈیو کیمرہ  تصویروں کو برقی رو میں تبدیل کرتا ہے جسے ایریل کے ذریعے فضا میں بھیجا جاتا ہے ٹیلی وژن رسیور میں انہی برقی لہروں کو روشنی کی لہروں میں تبدیل کرکے تصویر حاصل ہوتی ہے اور ہم دنیا بھر کی معلومات ٹیلی وژن پر  آواز اور تصویر کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ تمام یک طرفہ پیغام رسانی کے آلات ہیں ۔ دو طرفہ پیغام رسانی کے لیے ٹیلی فون کارڈ لیس اور موبائل فون کا استعمال ہوتا ہے ۔ کمپیوٹر حساب کتاب کی مشین ہونے کے علاوہ پیغام رسانی کا بھی ذریعہ ہے ۔ جو صوتی  کی بجائے تحریری صورت میں ہوتی ہے ۔ ان پُٹ ڈیوائسز کے ذریعے سوال کا اندراج کیا جاتا ہے اور آؤٹ پٹ (مخرج ) یعنی مونیٹر پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایک اور ایجاد ٹیلی فیکس ہے ۔جس میں ہم اپنے رسم الخط کو ایک مشین سے دوسری مشین تک پہنچا سکتے ہیں ۔

بصری ریشے کا استعمال جدید مواصلات کے ذرائع

غرضیکہ اب رابطے کے لیے تاروں کی بجائے بصری ریشے جو 1960ء میں دریافت ہوئے تھے ان پر کام ہو رہا ہے تاکہ لاکھوں کمپیوٹر بیک وقت رابطہ قائم کر سکیں ۔اب کمپیوٹر کے ذریعے تصویریں بھی موصول ہوتی ہیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان ذرائع مواصلات کے لیے خلائی اسٹیشن اور مصنوعی سیارے بھی پوری دنیا میں یہ پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ۔لیزر شعاعوں کا  استعمال  عام ہو رہا ہے جس سے ہوائی راستوں کا تعین ،موسموں کے تغیرات کو سمجھنے کے لیے کام ہو رہا ہے ۔

مواصلات کے جدید ذرائع کا خلاصہ
مواصلات کے جدید ذرائع کا خلاصہ

Leave a Comment