مولانا الطاف حسین حالیؔ کی نظم اسلامی مساوات کا خلاصہ سال دوم

مولانا الطاف حسین حالیؔ کی نظم اسلامی مساوات کا خلاصہ سال دوم : نظم “اسلامی مساوات” بارھویں جماعت  سرمایہ اردو ( اردولازمی ) کی چوتھی نظم  ہے ۔ جس کے شاعر مولانا الطاف حسین حالیؔ  ہیں اور یہ نظم ان  کی کتاب “مسدس حالیؔ “ سے لی گئی ہے ۔  بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں سب سے زیادہ اسی  نظم  کا خلاصہ  آتا ہے ۔

شاعر: مولانا الطاف حسین حالیؔ

اسلامی مساوات

خلاصہ

جب کسی قوم کا آفتاب اوج گہناتا ہے تو سب سے پہلے اس کے امراء بگڑتے ہیں عقل و الہام ان کی رہبری نہیں کر پاتے ۔ ان میں کسی خوبی کا وجود باقی نہیں رہتا اور وہ دنیا و آخرت سے غافل ہو جاتے ہیں ۔ ان کی عیش و عشرت بھری دنیا میں محروموں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہتی ۔  یہی طرزِ تغافل انہیں دھکیل کر انھیں قبروں تک لے جاتا ہے ۔ ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ دوسرے لوگ بھوکوں مر رہے ہیں ۔ وہ اپنی آسائشوں میں بدمست رہتے ہیں ۔ امت کی فکر ان سے کوسوں دور رہتی ہے ۔ وہ خود کو ایک مافوق الفطرت مخلوق تصور کرتے ہیں ۔ جن پر مخلوق ِ خدا کا کوئی حق نہیں رہتا ۔ ان کا سسکتی مخلوق تصور کرتے ہیں۔ کہاں وہ ؟کہاں یہ ؟ انہیں بہترین پہناوے ، عالی شان محل اور بے فکری کی زندگی میسر ہے ۔ ایک سے ایک عمدہ سواری دستیاب  ہے  ۔ رقص و سرور کی بزم آرائیاں ان کی منتظر رہتی ہیں ۔ خدمت گزاروں اور ناز برداروں کی انہیں کمی نہیں  ۔ان کی دوائیں اور قبائیں مشک و عنبر سے تر ہوتی ہیں  ۔غرض ہر لطافت ، ہر نزاکت ان کا جزو ہستی ہوتی ہے ۔ بھلا زمانے کے ستائے ہوئے ،بے امان ، بے بس اور لاچار ان کے ہمسر کیونکر ہو سکتے ہیں ۔ حالانکہ قرآنِ کریم نے سب سے اولین درس مساواتِ انسانی کا دیا تھا جس کی بنیاد یہ تھی کہ تمام مخلوق عیال اللہ ہے جو ان سے انس رکھتا ہے وہی انسان ہے اور وہی بارگاہِ الہی میں مقرب بندہ ہے۔

 

Leave a Comment