مولانا ظفر علی خان کی نظم حمد کا خلاصہ

مولانا ظفر علی خان کی نظم حمد کا خلاصہ : نظم حمد بارھویں جماعت  سرمایہ اردو ( اردولازمی) کی پہلی نظم  ہے ۔ جس کے شاعر مولانا ظفر علی خاں ہیں اور یہ نظم ان  کی کتاب “حبسیات “ سے لی گئی ہے ۔  بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں سب سے زیادہ اسی  نظم  کا خلاصہ  آتا ہے ۔

سال دوئم کی تمام نظموں کے خلاصے
نظموں کے خلاصے

شاعر: مولانا ظفر علی خان

حمد

خلاصہ

اے خدا ! تری رحمت ہر ذی روح کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ترا طلب گار کبھی محروم نہیں رہتا ۔ تری توحید ہی تری گواہی ہے کیونکہ ترے سوا ہر نقش فانی ہے ۔ کائنات کا ذرہ ذرہ تری قدرتِ کاملہ کا گواہ ہے ۔ مجھے تو ہوا کے ہر جھونکے سے ترا ہی پیغام ملا ہے۔ اے خدا ! میں سر سے پاؤں تک گناہوں کی دلدل میں گھرا ہوا ہوں مگر تری مغفوری کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جو میرے ہر گناہ کو چشم عالم سے چھپائے ہوا ہے ۔ میں پستیوں میں گرا ضرور ہوں مگر میرے لیے یہی کافی ہے کہ گرتے گرتے بھی تری رحمت کا دامن تھام لیا ہے ۔ اے خدا ! رسول ﷺ اس زمین کے  باسیوں پر تری آخری برہان ہیں جنہوں نے ترا پیغام ہم سب تک پہنچایا ۔اگرچہ سرکش اور منکر ، ترے نور کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش برابر کرتے رہے مگر نورِ توحید کا اتمام ہو کر رہا۔

رحمت اللعالمین ﷺ مضمون

Leave a Comment