مولوی نذیر احمد دہلوی سبق کا خلاصہ

مولوی نذیر احمد دہلوی سبق کا خلاصہ  : مولوی نذیر احمد دہلوی” سبق شاہد احمد دہلوی کی کتاب “گنجینہ گوہر ” سے لیا گیا ہے۔”جس میں مختلف مشہور شخصیات کے خاکے  پیش کیے گئے ہیں۔

 سبق “مولوی نذیر احمد دہلوی” بارھویں جماعت کا سب سے اہم سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں  وقتاً فوقتاً  آتا رہتا ہے ۔

 

 :خلاصہ کی تعریف

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے

سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔

سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔

سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا

  اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔

سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

خلاصہ یاد کرنے کے لیے سرخیاں لگائی ہیں  سالانہ پیپر میں لکھنے کے لیے خلاصے  کا نیچے نمونہ دیا گیا ہے 

خلاصہ

شاہد احمد دہلوی اور مولوی نذیر احمد کا رشتہ

مولوی نذیر احمد  سے مصنف کی کی آخری ملاقات چار پانچ برس کی عمر میں ہوئی تھی وہ اپنے  تین بھائیوں اور والد بشیرالدین احمد   کے  ساتھ حیدرآباد دکن سے دلی آئے تھے جہاں کھاری باؤلی کے مکان میں گئے تھے ۔ اس معمولی سے مکان میں ایک پلنگ پر سفید داڑھی  والے  اور کنٹوپ پہنے ہوئے ایک بزرگ  تھے ۔ والد صاحب ان سے لپٹ کر کچھ دیر روتے  رہے اور بچوں سے فرمایا  کہ دادا ابا کو سلام کرو ۔ ان بزرگ نے  پوتوں  کو ایک ایک اشرفی دی اور پھر بچے کھیلنے کے لیے باہر نکل گئے  ۔ پھر ان بزرگ کو دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔

 شخصیت

 مولوی صاحب زمانہ ساز انسان  نہ تھے نہ کہیں جم کر  نوکری کی اور نہ ہی کوئی خطاب قبول کیا  ۔ بالآخر پنشن لے کر دلی آ رہے ۔ ایک مرتبہ نواب سرفراز علی خان سخت بیمار تھے مولوی صاحب انہیں خواب میں ملے اور فرمایا کہ ہمارے قرآن کا  ترجمہ  چھپوا دو تو اچھے ہو جاؤ گے  ۔ انہوں نے مصنف کے والد سے اجازت لے کر ترجمہ چھپوایا  تو بھلے چنگے  ہو گئے  اور لمبی عمر پائی ۔

مولوی احمد حسن  کا واقعہ 

 مولوی صاحب کے ایک  عزیز مولوی احمد حسن  نے ایک دن مولوی صاحب کی کی کہنیوں کو  دیکھا کہ بہت  میل چڑھا ہوا ہے  اس لئے صاف کرنے کی اجازت مانگی ۔ مولوی صاحب نے بتایا  کہ یہ ان کے زمانہ طالب علمی کی یاد ہے وہ پنجابی کٹرے کی مسجد میں میں فرش پر کہنیاں ٹکائے رات دیر تک مطالعہ کرتے تھے ۔ بالآخر کہنیوں پر گٹے بن گئے ۔ مولوی صاحب اپنی طالب علمی کی سختیاں  بڑے فخر سے بتاتے  تھے ۔ اس مسجد کا ملا خاصا بے رحم تھا سردیوں میں  مولوی صاحب اور ان کے  بھائی رات کو ٹاٹ کی صفیں لپیٹ  کر سو جاتے تھے  کئی مرتبہ اعلی ا لصبح  ملا کی لات سے آنکھ کھلتی اور ساتھ ہی صف بھی بچھ جاتی تھی ۔

 مولوی نذیر احمد دہلوی کا سسرال

پھر محلے کے گھروں سے روٹی بھی مانگ کر لانی  پڑتی تھی جس کے لیے دن مقرر تھے انہیں گھروں میں سے ایک گھر مولوی عبدالقادر کا تھا جہاں  ان کے گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کرنے  پڑتے تھے سب سے مشکل کام ان کی ضدن لڑکی کو بہلانا ہوتا تھا ۔ جو کبھی کبھار تومولوی صاحب  کو مارتی بھی تھی ۔  ایک مرتبہ ان  کا ہاتھ بُری طرح زخمی کر دیا تھا ۔  یہی لڑکی بڑی ہو کر ان کی بیوی بنی  ۔  کھاتے پیتےسسرال میں رہنا  مولوی  صاحب کو گوارا نہ تھا اس لئے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے لگے ۔ جہاں  میاں بیوی کے لئے صرف ایک ہی چپل تھی ۔

 علیگڑھ کالج اور مولوی نذیر احمد

تعلیم کے باوجود خاصی دیر کے بعد ملازمت ملی ۔ سرسید احمد خان  ، مولوی صاحب کی حد درجہ تعظیم کیا کرتے تھے اور مولوی صاحب نے بھی ہر ممکنہ طریقے سے ان کی مدد کی ۔ ایک مرتبہ ایک ہندو محاسب کے غبن کی وجہ سے جب علیگڑھ کا وجود خطرے میں تھا تو مولوی صاحب نے بساط بھر مالی مدد کی ۔ چندہ مانگنے کی مہم میں سرسید انہیں اپنے ساتھ رکھتے  تھے  کیونکہ مولوی صاحب بلا کے خطیب تھے اور اپنی مثال آپ تھے  ۔ لوگوں پر ایسا جادو کر  دیتے کہ جو یہ کہتے،  وہ کرتے ۔  مردوں کی جیب خالی کروانے اور عورتوں کے زیور تک چندے میں لے لیتے تھے ۔

مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی اور ترجمہ القرآن

عربی زبان دانی میں مولوی صاحب یکتا تھے لوگوں نے قرآن مجید کے ترجمے کے لئے بہت اصرار کیا ۔ مگر وہ گریزاں رہے ۔  پینشن لے کر جب دلی آئے تو تیسر کا ترجمہ کرتے وقت آیات قرآنی کے ترجمے کا تجربہ ہوا ۔  ان کی ہچکچاہٹ ذرا کم ہوئی تو قرآن مجید کا ترجمہ ” ترجمہ القرآن “شروع کیا ۔  علما سے مشاورت اور نہایت باریک بینی سے تحقیق اور تصدیق کے بعد یہ ترجمہ شائع کروایا ۔  ایسا بامحاورا اور شستہ  ترجمہ پچھلی نصف صدی میں اور کوئی نہ چھپ سکا ۔ مولوی صاحب اسی  کو اپنے لئے باعث نجات خیال  کرتے تھے۔ 

 مولوی نذیر احمد دہلوی کا خلاصہ
مولوی نذیر احمد دہلوی کا خلاصہ
 

Leave a Comment