نواب محسن الملک سبق کا خلاصہ

نواب محسن الملک  سبق ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی کتاب “چند ہم عصر ” سے لیا گیا ہے۔”جس میں اردو ادب کی نامور شخصیات کے خاکے پیش کیے گئے ہیں ۔

سبق “ایوب عباسی” بارھویں جماعت  سرمایہ اردو( اردولازمی) کا  سبق  ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پنجاب کے تمام بورڈزکے سالانہ امتحانات میں سب سے زیادہ اور بار بار اس سبق کا خلاصہ  آتا ہے ۔

 

  • خلاصہ کی تعریف:

سبق کے تمام پیراگراف میں موجود بنیادی نکات  کو مختصراً نثر میں بیان کرنا  خلاصہ کہلاتا  ہیں۔

خلاصہ لکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا چاہیے۔

  • سبق کا خلاصہ  2 سے 3 صفحات کے درمیان ہونا چاہیے
  • سبق کے خلاصے میں تمام نکات  کی ترتیب اور تسلسل کو مدِ نظر رکھ کر خلاصہ لکھنا چاہیے۔
  • سبق کے خلاصہ میں غیر ضروری وضاحت اور تنقید سے پرہیز کرنا چاہیے۔
  • سبق کاخلاصہ 10 سے15 منٹ میں لکھنا ہوگا ۔
  • سبق کا خلاصہ  10نمبر  کاہو گا( 1 نمبر مصنف کے نام کا ہوگا اور 9 نمبر  کا خلاصہ لکھنا ہو گا
  • 2 اسباق کے نام ہوں گے اور آپ  کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا خلاصہ لکھنا ہو  گے۔
  • سال دوم کے پیپر میں چوتھا  سوال  سبق  کے خلاصےکے بارے میں پوچھا جائے گا۔

نواب محسن الملک

مصنف کا نام : ڈاکٹر مولوی عبدالحق

خلاصہ

نواب محسن الملک کی شخصیت

نواب محسن الملک کو اللہ تعالی نے نے ظاہری و باطنی ایسی خوبیوں سے نوازا تھا جو کسی سے چھپی نہیں رہتی تھیں ۔ عام طور پر نام رکھتے وقت یا خطاب عطا کرتے وقت اُس شخص کی کی ذاتی صفات  کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا  لیکن نواب محسن الملک  اسم بامسمیٰ  تھے  جو ان کے قریب آیا تو وہ دُر نایاب ہو گیا وہ دوست  دشمن ہر ایک کا احسان یاد رکھتے تھے سیاست میں مخالفین کو کو زیر کرنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے لینے پڑتے  ہیں ۔ مرحوم نے یہ دل شکن مراحل اس نفاست سے طے کیے کہ زخم رسیدہ الُٹا  اُن کے شکر گزار رہتے  وہ گوہر نایاب تھے ۔

نواب محسن الملک اور دکن

اور ان کو مخفی  صلاحیتوں کے  اظہار کا اصل موقع حیدرآباد دکن میں ملا ۔  سیاسی تدبر اور انتظامی قابلیت کا اعتراف ہر شخص نے کیا ۔  انگریزوں کے دور میں میں حیدرآباد کا پہلا بجٹ انہوں نے مصری نمونے پر تیار کیا انہی کے قائم کردہ بندوبست کے محکمے نے اراضی  کی پیمائش کی ۔ حیدرآباد میں انھیں بے مثال ہر دلعزیزی  نصیب ہوئی عہدہ داران کی آؤ بھگت تو عوامی شعار ہے  لیکن سبکدوشی کے بعد ایسی والہانہ محبت  کسی اور سے نہ دیکھی اور نہ سنی  ۔ حیدرآباد اسٹیشن پر ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ آبدیدہ انہیں الوداع کہنے آئے تھے ۔

نواب محسن الملک بحیثیت مسلمان اور مقرر

محسن الملک نے جس ہندوستان میں آنکھ کھولی وہ مسلمانوں کی مذہبی جذبیت کا دور تھا مسلمانوں کے پاس اب مذہب ہی کی پونجی رہ گئی تھی ۔ جدید ، قدیم ہر مکتبہ فکر والے مذہب کا الاپ کر رہے تھے ۔ نواب صاحب بھی مذہبی تھے میلاد پڑھتے اور وعظ کہتے تھے اگرچہ مذہب پر ان کی ایک ہی کتاب ہے ہے باقی تعلیمی اور معاشرتی ہیں لیکن ان کے ہاں  فلسفہ و فکر کی بنیاد مذہب ہی رہا  اچھے خاصے ادیب تھے ۔ انگریزی سے نابلد تھے  مگر تراجم سے استفادہ کرکے مغربیت کا رنگ بھی اپنایا ۔محسن الملک بے مثال مقرر بھی تھے  ان کی خوش بیانی کو دوست دشمن سب سراہتے تھے۔

نواب محسن الملک اور علی گڑھ کالج

بدرالدین طیب جی سر سید اور ان کے مشن  کے سخت مخالف تھے ایک روز نواب صاحب نے ایسی فصاحت سے وضاحت کی کہ دونوں حضرات آبدیدہ ہو گئے اور بدرالدین طیب جی نے ایک بیش قیمتی عطیہ کالج کے لیے دیا ۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے  آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس  کی صدارت بھی کی ۔ اکثر جلسوں میں جب مجمع بےقابو ہونے لگتا تو نواب صاحب کی جادو بیانی  ہی کام  آتی وہ لوگوں سے سے کام  لینا  جانتے  تھے فرمائش بھی اس محبت سے کرتے کہ دوسرے جان لُٹانے کو تیار ہو جاتے ۔ وہ مردم شناس تھے  اور بُرے بھلے ہر قسم کے آدمی سے سے کام لیتے تھے۔

نواب محسن الملک  کا مطالعہ کا شوق

محسن الملک کو مطالعہ کا بے حد شوق تھا انگریزی کتب پڑھواتے تھے یا  تراجم سے  مستفید ہوتے تھے ان کے کتب خانے میں عربی ، فارسی اور  انگریزی کتب کا عمدہ ذخیرہ موجود تھا ۔

نواب محسن الملک اور سر سید احمد خان

سر سید نے اپنے آخری ایام  میں اردو کی مخالفت کا بھرپور جواب دیا  تھا  بعد میں محسن الملک نے نے ایک انجمن قائم  کی جس  کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اردو سے محبت کا جذبہ عام  کیا  وہ سرسید کے جانشین تھے اور انہوں نے  اپنی محنت اور تدبر سے اس جانشینی کا حق ادا کر دیا ۔

نواب محسن الملک سبق کا خلاصہ
نواب محسن الملک سبق کا خلاصہ

Leave a Comment