ہوائی سفرنامہ کا خلاصہ

ہوائی سفرنامہ کا خلاصہ:  سفر نامہ نگار بیگم اختر ریاض الدین

ہوائی

سفر نامہ نگار :  بیگم اختر ریاض الدین

خلاصہ

مصنفہ جیسی سفر کی دلدادہ کے لیے ہوائی کا سفر اپنی طوالت اور بحرالکاہل کی وجہ سے قدرے پُر خطر تھا ۔ لیکن میاں کے لیے سات سمندر پار جانا کچھ دشوار بھی نہ تھا ۔ گھر کا سامان سمیٹینے میں اب وہ مہارت حاصل کر چکی تھی ۔ چھوٹی بیٹی کو ساتھ جانا تھا باقیوں نے امتحان کے بعد آنا تھا ۔

سفر کے لیے وہ ہمیشہ بی۔او۔اے۔سی  کا انتخاب کرتی تھیں کیونکہ اس کی نشستیں آرام دہ اور عملہ تمیزدار ہوتا تھا ۔ مصنفہ نے پہلا پڑاؤ کلکتہ میں ڈالا جو موصوفہ کی جنم بھومی تھا لیکن غالبؔ نے اس شہر کے متعلق جو کچھ فرمایا تھا وہ یہاں کی پولیس اور محکمہ کسٹم کے وجود سے پہلے درست ہو گا اب نہیں ۔

چنانچہ فوراً ہانگ کانگ روانہ ہوئیں ۔ دم لے کر ٹوکیو کا رُخ کیا ۔ پین ۔ایم  جہاز کے ذریعے یہ سفر خاصا ارتعاش انگیز اور مشکل تھا ۔ ایک مسافر نے بتایا کہ ٹوکیو سے ہوائی تک کے سفر کا یہ عشرِ عشیر بھی نہیں  ہے ۔ وہ دو دن جنرل شیخ کی مہمان نوازی سے فیضیاب ہونے کے بعد جاپان ائرلائن کے ذریعے ہونو لولو روانہ ہوئیں ۔

خیروعافیت سے پہنچنے پر میاں ہمیشہ کی طرح استقبال کے لیے نہ پہنچے تو  یونیورسٹی والوں نے ایسٹ ویسٹ سینٹر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ ٹیکسی لے کر ہائی رائز ہاسٹل پہنچیں تو رات کے بارہ بج چکے تھے ۔

اچانک دو لدی پھندی کاریں آ کر رکیں ایک میں گلدستہ بردار نوجوان لڑکیاں اور دوسری میں سے گٹارنوازوں کے ہجوم میں میاں ریاض الدین برآمد ہوئے ۔معلوم ہوا کہ ہوائی کا وقت جاپان کے وقت سے چوبیس گھنٹے پیچھے ہے اسی لیے تار پڑھنے میں مشکل ہوئی ۔

گھر پہنچے تو کوڑے، میلے کچیلے کپڑوں اور ان دھلے برتنوں کے ڈھیر لگے  ہوئے تھے ۔دو بجے تک خوب ہلا گلہ چلتا رہا لیکن ہمسائے کی ایک تنبیہ ہی کافی تھی کیونکہ وہ ہوائی کا مشہور پہلوان تھا ۔

کب نیند آئی کب جاگے معلوم نہیں ۔ ناشتے کے بعد سارا دن گھر کی صفائی میں گزر گیا ۔ شام کو جزیرے کا اولین نظارہ بحرالکاہل کے کنارے غروبِ آفتاب کا تھا یہاں سمندر گہرا نیلا اور چمکدار تھا ۔ جزیرہ اوواہو سبزے میں نہایا ہوا تھا ۔ یہ ناقابلِ فرموش منظر تھا ۔

اگلے دن ہنومابے پر پکنک منائی ۔ آبی حیات کے لیے  یہ ساحل مشہور ہے ۔یہاں کی ہوائی یونیورسٹی علوم سمندر کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے ۔

شام کو خریداری کے لیے سپر مارکیٹ گئے جو امریکی تمدن کا شاندار کرشمہ ہے ۔ وہاں ہر چیز نقد و ادھار دستیاب ہے ۔

میاں نے گھر سیکنڈ ہینڈ چیزوں مثلاً  کار ، ٹی ۔وی اور فرنیچر سے بھر رکھا تھا ۔ مصنفہ کئی روز کا کھانا بنا کر فریزر میں فریز کر لیتی اور خود ہوائی  کے جزائر کی سیر کو نکل جاتی ۔ لائبریوں سے کتب اور یونیورسٹی سے دوست مل گئے ۔

امریکی حکومت کا ایک اور کارنامہ یہاں کا ایسٹ ویسٹ سینٹرہے ۔ جو دنیا بھر سے سینئر سکالرز کو مدعو کرتا ہے اور محقیقین کی کتابیں بھی شائع کرتا ہے ۔ یونیورسٹی کے اشتراک کی بدولت امریکی سکالرز یہاں علم بانٹتے ہیں نمائشیں منعقد ہوتی ہیں اور جشن منائے جاتے ہیں ۔

قریب ہی دلفریب جاپانی باغ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے یونیورسٹی میں موجود دنیا بھر کے تشنگانِ علم کا معاشرتی تنوع خود ایک تعلیم اثاثہ ہے جو کہ  اس مرکز کی خاصیت ہے۔

بیگم اختر ریاض الدین کے سفر نامے "ہوائی" کا خلاصہ

Leave a Comment