Best Speech in Urdu for Students 2023

Best Speech in Urdu for Students 2023

speech in urdu for students

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

صدر عالی مرتبت اور معزز حاضرین مجلس  ! مجھے آج کے ایوان میں جس موضوع  پر اظہار خیال کرنے کا موقع ملا ہے ، وہ ہے :

کبھی اے نوجواں مسلم ! تدبر بھی کیا تو نے

جناب ِ والا ! میرا آج کا موضوع ِ تقریر حضرت علامہ محمد اقبال کے ایک ایمان آفرین شعر کا اولین مصرعہ ہے۔ شعر کیا ہے۔ عبرت و نصیحت کا پیغام ہے کہ  کیوں ملتِ اسلامیہ کو  زوال ہے ؟مسلمانوں کی حالت پہ ماتم ہے  نوجوانوں کی خودی پہ کڑا  سوال ہے ۔   شاندار ماضی اور پریشان کن عہد کی تصویر ہے    علامہ فرماتے ہیں:

کبھی اے نوجواں مسلم ! تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

حاضرین محترم! علامہ اقبال کے دور میں دنیا بھر کے مسلمان ذلت وخواری کا شکار تھے ۔ عظیم اسلاف کے کارنامے ان کیلئے بے مقصد کہانی بن گئے تھے۔ شاندار ماضی محض خواب بن کر رہ گیا تھا۔ وہ فراموش کر چکے تھے کہ ان کا تعلق اس قوم سے ہے جس نے نظریہ اسلام سے جنم لیا ہے ۔ وہ مدہوشیوں میں کھو کر یہ سوچنے کو تیار ہی نہ تھے کہ ان کے آباؤ اجداد نے قیصر کی خدائی اور کسریٰ کی فرعونیت ،دارا و سکندر کے بتوں کے طلسم کو پارا پارا کر دیا تھا۔ فرنگی آقاؤں نے ان کے ذہنوں سے احساس زیاں چھین لیا تھا۔ وہ حال کی رنگینیوں میں گم تھے۔ ماضی کے جاہ و جلال کو وہ قصہ پارینہ سمجھ بیٹھے تھے اور مستقبل کی تاب ناکیوں کے بارے میں وہ سوچنے کو تیار ہی نہ  تھے۔ ایسے دور المناک میں شاعر مشرق کا حساس ذہن چیخ اٹھا۔

عجم کے خیالات میں کھو گیا

یہ سالک مقامات میں کھو گیا

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

شراب کہن پھر پلا ساقیا

وہی جام گردش میں لا ساقیا

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

 جناب والا! اقبال محض لفظوں کے سوداگر نہیں تھے بلکہ بے حمیتی کے طلسم کو توڑ کر مسلمانوں کو عمل کی شاہراہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کا پر شکوہ ماضی یاد دلایا۔ انہیں احساس دلایا کہ وہ تمہارے ہی آباؤ اجداد تھے جو عرب کے صحراؤں سے اٹھے اور زمانے بھر کو زیر وزبرکر ڈالا۔ کائنات کو تسخیر کرتے کرتے بحر ظلمات کو اپنے گھوڑوں کے سموں سے روند ڈالا۔ توحید خداوندی اور عشق مصطفوی کا پرچم اٹھا کر جب وہ آگے بڑھے تو فتوحات ان کے قدم چومتی گئیں۔ پہاڑوں نے اپنے سر جھکا لئے  ؛ صحراؤں نے اپنے وجود کو سمیٹ لیا۔ کائنات کی وسعتیں ان کے قدموں تلے اپنا وجود کھو بیٹھیں۔

 

یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے

جنہیں تو نے بخشا ذوق خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

جناب صدر !  اقبال کی آواز بانگِ  در ا تھی جو درماندہ قافلوں کو بیدار کر گئی۔ وہ ملت اسلامیہ کے عظیم سپوتوں کے قصیدہ  خواں تھے جن کی فکر انگیز شاعری نے بالآ خر قیامت کی نیند سونے والوں کو بیدار کر دیا۔ اقبال نے مسلمانوں کو محبت رسول کا لافانی درس دیا۔ عظیم المرتبت اجداد کے کارناموں کے حسن کو ماضی سے بے بہرہ مسلمانوں کے دلوں میں اتار کر انہیں طاغوتی قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شہادت کو ” سینے سے لگانے کا حوصلہ بخش دیا۔ چشم فلک حیرت میں گم ہو گئی کہ اپنے وجود سے بے بہرہ مسلمان ایشیا سے افریقہ تک باطل قوتوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے تیار ہو گیا ہے۔ یہ فقط ترجمان اسرار فطرت اقبال ہی جانتے تھے کہ

جب اس انگاره خا کی میں ہوتا ہے یقیں پیدا

تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا

جناب صدر ! اقبال نے مسلمانوں کو شاہینِ شہِ لولاک بنایا۔

 انہیں آزادی  ، قوم  او ر وطن کیلئے جینا سکھایا۔

 زمین کی پستیوں سے ابھار کر مہر و ماہ کی بلندیوں پر آشیانہ بنانا سکھایا۔

غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کے ماہتاب کو جگمگانا سکھایا

اور پھر زمانے نے دیکھا کہ بے بسی و لاچارگی کی زندگی بسر کرنے والا مسلمان برصغیر پاک و ہند کے سفید فام آقاؤں، ہندوؤں اور ان کے  کاسہ لیسوں سے ٹکرا رہا تھا۔ اقبال کا خواب اپنی تعبیر دیکھ رہا تھا۔ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت اپنی قوم کو تحریک پاکستان کی آزادی کی داستان رقم کرتے دیکھ رہی تھی۔ یہ معجزوں کا زمانہ نہیں تھا مگر معجزہ ہو گیا    اور پاکستان عالم اسلام کی  امیدوں کا مرکز بن کر وقت کے افق پر عشق کی قوت بن کر ابھر آیا ۔تو اقبال کو کہنا پڑا:

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پہ اسرار شہنشاہی

دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ

ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہ

speech in urdu for students

جناب والا! پاکستان وجود میں آیا  تو ایشیاء سے افریقہ تک کے مسلمان غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیلئے اپنے اسلاف کی عظمت و شجاعت کی داستانوں کو دوبارہ رقم کرنے  لگے۔ زمانہ اس حقیقت کا شاہد ہے کہ مسلم قوم نے جب بھی تدبر سے کام لیا۔ جب بھی اپنا رشتہ حالات کی تن آسانیوں سے توڑ کر قرونِ اولٰی اور قرونِ وسطی سے جوڑا  تو رب کائنات نے اپنی رحمتوں کے پھول ان پر نچھاور کر دیے ۔  چنگیز خان کے مسلم کش حملوں سے لیکر صلیبی جنگوں کے خوفناک منصوبوں تک ؛  یورپی استعماریت سے لے کر برصغیر پر انگریزوں کے ظلم و تشدد تک ؛  مسلمانوں نے اس وقت شکست کھائی جب انہوں نے قائد انسانیت حضور محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے جانثاروں کے کارناموں سے منہ موڑ کر غلامی کو لبیک کہا۔ مگر جونہی ان کے افکار میں اسلاف کے جذبہ شجاعت نے  انگڑائی  لی تو انہوں نے پھر باطل قوت کو قدموں تلے روند کر رکھ دیا۔

جناب والا !  آج پھر عالم اسلام ایک نئی قیامت سے دو چار ہے۔ مسلمان ایک مرتبہ پھر اپنے ماضی سے رشتہ توڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے اتحاد عالم اسلام کے تصور کو چھوڑ دیا ہے اور مصلحت کوشی کو پسند کر لیا ہے۔ باطل قوتوں نے اسے ایک سنہری موقع جان کر ہم پر ضرب کاری لگائی تو اقبال کا نوجوان مسلم پھر تقدیر اور فکر و بصیرت سے بیگانہ ہو گیا اور بھول گیا کہ:

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا

حضور نبی کریم ﷺ نے جن بتوں کو پاش  پاش کر دیا تھا۔ ہم نے انہیں پھر سے زندہ کر لیا ہے۔ حرص و ہوس ،  جغرافیائی اور علاقائی تعصب لسانی اور رنگ ونسل کے بتوں سے ہم نے دلوں کے صنم کدے آباد کر لئے ہیں۔

جنابِ والا !  قدرت نے عالم اسلام کو ہر قسم کے معدنی اور قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ ہم زمانے بھر سے ٹکرا سکتے ہیں مگر ہم نے بزدلی اور کم ہمتی کو ایک بار پھر اپنا شعار بنالیا ہے اغیار ہماری ہڈیوں سے غیرت کے لہو کا آخری قطرہ بھی نچوڑنے کیلئے بے قرار ہیں۔

 جناب والا! قدرت ہر قوم کو سنبھلنے کا ایک موقع ضرور دیتی ہے۔ ہمارےلئے بھی خواب غفلت سے بیدار ہو کر فکر و تدبر سے کام لینے کا آخری موقع ہے۔ خدارا اسے رائیگاں نہ جانے دیجئے گا  ۔ باطل قوتوں سے ہراساں ہونا چھوڑ دیجئے۔ چراغِ مصطفوی ﷺ  سے زمانے کو منور کر دیجئے  ۔ پاکستان ہویا افغانستان فلسطین ہو یا عراق، خدارا اپنے اسلاف سے رشتہ جوڑ لیجئے ان کے کارناموں سے حیات نو حاصل کیجئے۔ یقین جانئے آنے والا وقت آپ کی لافانی صبح آزادی کا انتظار کررہا ہے :

تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی

جہاں کے جوہرِ مضمر کا گویا امتحاں تو ہے

یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا

کہ اقوام زمین ایشیاکا پاسباں تو ہے

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

صدرذی وقار  !  اقبال جب جوانانِ اسلام سے خطاب کرتے ہیں تو ان کا خطاب محض ایک پہلو یا چند امور پر مبنی نہیں ہوتا۔ وہ تو مرد مومن کو عالم اسلام کی قیادت کرنے کا پیغام دیتے ہیں۔ اسے صداقت، عدالت، شجاعت کا بھولا ہوا پیغام یاد دلاتے ہیں تا کہ یہ ملت پھر سے اقوام عالم کی امامت اور سیادت کا فریضہ انجام دے سکے۔ اقبال جوانان ملت کو عفت و عصمت کی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انکی خواہش ہے کہ انکی جوانی بے داغ ہو۔ ان کی شاہینی پرواز ہو  ۔ ان میں خودی اور خودداری کی صفات پیدا ہوں تا کہ یہ خداشناسی کی منزل پر فائز ہو سکیں اور پھر ان کیلئے وہ وقت آ جائے کہ

بڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کر

طلسم زمان و مکاں توڑ کر

ہر اک منتظر تیری یلغار کا

تری شوخئی فکر و کردار کا

یہ ہے مقصد گردش روزگار

کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار

PDF DOWNLOADING

speech in urdu for students

 

مزید پڑھیے

Leave a Comment