hasrat mohani،حسرت موہانی

حسرت موہانی کا اصل  نام سید فضل الحسن تھا

اور تخلص حسرت کیا کرتے تھے۔ حسرت  موہانی  سودیشی تحریک کے زبردست کارکن اور  حامی تھے انگریزوں سے اتنے بدزن تھے کہ انھوں نے  آخری وقت تک کسی ولایتی چیز کو چُھوا تک   نہیں ۔ علامہ شبلی نے  ان کی کاوش  کے بارے میں ایک مرتبہ کہا تھا :

”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے پھر سیاست دان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“

 حسرت  موہانی  انگریزی  گورنمنٹ  کے خلاف تھے۔ 1907ء میں ایک مضمون کو بنیاد بنا کر ان کو  جیل بھیج دیا گیا ۔ان  کو حریت پسند تحریروں کی وجہ سے  1947ء تک 13 مرتبہ  قید کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں جس سے  ان کی مالی حالت تباہ ہو کر رہ گئی  ۔ مگر ان تمام مصائب اور قیدو بند  کو انھوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔ اور  حسرت موہانی نے 13  ہی حج کیے  آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘ بھی کہا جاتا ہے-

غزل نمبر 2

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھیے کب تک رہے

حُب وطن مستِ خواب ،دیکھیے کب تک رہے

بنیادی فلسفہ:       اہل وطن پر ظلم وستم کی رسم  جفا دیکھتے  ہیں  کب تک جاری رہتی ہے اور کب تک وہ  خواب غفلت میں سوتے رہتے ہیں ۔

تشریح:حسرت ؔموہانی برطانوی سامراج کی مخالفت کرنے والے ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔  بار بار حوالات  کے درشن نے ان کے جذبہ آزادی کو مزید بڑھا  دیا ۔  انھوں نے سیاسی تصورات کو اردو غزل کے موضوعات میں شامل کر کے ایک نئی جہت پیدا کر دی  ۔اسی لیے  یہ غزل بھی  سیاسی افکار کی آئینہ دار ہے ۔

غزل کا مطلع حکومتِ وقت کے خلاف ایک صدائے احتجاج ہے اور اپنی محکوم قوم کو جگانے کے لیے ایک شعری للکار ہے ۔شعر میں ایک طرف انگریزوں کے ظلم وستم کا ذکر ہے تو دووسری طرف   اہل وطن کے اندر آزادی کا جذبہ  ردعمل کے طور پر ایک دن ضرور پیدا ہونے کی  نوید بھی ہے ۔

اچھا ہے اہل جُور کیے جائیں سختیاں

پھیلے گی یوں ہی شورشِ حُبِ وطن

تو دوسری طرف  اہل وطن سے بھی شکوہ  ہے کہ وہ خوابِ غفلت میں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ۔ایک طرف انگریز حکومت تنقید کرنے والے قلم کاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے تو دوسری طرف عوام ظلم سہنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ وہ صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرتے ۔شاعر نے قوم کے اس رویے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔حسرتؔ کی وطن سے محبت کا اظہار اس شعر میں ملتا ہے ۔اور وہ لوگوں  کو احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ظلم سہنے کی بجائے  آزادی کی  جدو جہد کریں ۔

وسعت خُلد سے بڑھ کر ہے کہیں حُب وطن

تنگی گور سے بدتر ہے غلامی کی فضا

“دیکھیے کب تک رہے “سے مراد ہے کہ کب وہ دن آئے گا جب انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کیا جائے گا۔”کب تک رہے” کے الفاظ اس بات کی تحریک پیدا کرتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ ٹوٹ جانا چاہیے۔

دیکھیے سہتے ہیں کب تک اہل دل جوروستم

دیکھیے رہتی ہے کب تک ظلم کی رسی دراز

کیونکہ  ظلم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ظلم  آخرکار شکست کھاتا ہے ۔ کیونکہ  “ظلم آخر ظلم ہے  بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے”۔شاعر  امید کا دامن تھامے ہوئے ہے ۔اس کو مستقبل روشن نظر آرہا ہے ۔لیکن اس کے لیے  عوام کو  خواب غفلت سے جاگ کر عملی جدوجہد کرنی  پڑے گی ۔

رات جتنی کالی ہے

صبح ہونے والی ہے

PDF DOWNLOADING

شعر نمبر 2

دل پہ رہا مدتوں غلبہ یاس وہراس

قبضہ حزم و حجاب دیکھیے کب تک رہے

 

بنیادی فلسفہ:     سالہا سال ناامیدی اور خوف و ہراس میں گزرے اب دیکھتے ہیں شرم اور پردہ داری کا قبضہ کب تک رہتا ہے۔

تشریح:  حسرت ؔ موہانی اہلِ وطن کو یہ نصیحت کرتےہوئے کہتے ہیں  کہ غیر ضروری احتیاط اور مصلحت  کو چھوڑ کر بیدار ہونے کا وقت ہے ۔ بقول حسرتؔ خدا جانے ، خوف وہراس اور مایوسی کا  غلبہ کب تک ہماری قوم پر خوف بن کر  طاری رہے گا ۔ 1857ء کے بعد مسلمان مفلوک الحالی کی زندگی گزار رہےتھے  اہل وطن جس کیفیت سے دوچار ہیں حسرتؔ ابتدا میں خود اسی کیفیت سے دوچار رہے ۔ سوچتے رہے کہ اگر میں نے انگریز حکومت کے خلاف آواز اٹھائی یا کوئی اقدام کیا تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔آواز بلند کرنے کی پاداش میں ان کو 13 مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں ۔ شاعر نے اب  مصلحت اندیشی کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ہے اب ان کے ذہن اور شاعری میں کوئی  مایوسی اور خوف و ہراس نہیں ہے ۔ شاعر اب  خوف وہراس کی بجائے جدوجہد  کا راستہ اپنانے کے لیے کہہ رہا ہے ۔بقول فیضؔ

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت

چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

جیسے جیسے انگریزوں نے اپنی حکومت کو استحکام بخشا ویسے ویسے ان  کا ظلم وستم کا بازار بھی سرگرم ہوتا گیا ۔ 1857ء کے بعد بادشاہوں کو پابندِ سلاسل ، شہزادوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں  اور شہزادیوں کی عزت کو تار تار کر دیا گیا ۔ مذہبی ، معاشی اور تعلیمی ترقی کے راستے مسلمانوں پر بند کر دیے گئے ۔مسلما نوں کے اندر خوف وہراس  ، احتیاط ، جھجک اور  احساس کم تری پیدا ہو چکا تھا ایسے میں آزادی کا نعرہ لگانے والا شاعروں کے سوا کوئی نہ تھا ۔اور ان کی قربانیوں نے ہی آزادی  کا چراغ روشن کیا۔

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

 شاعر مسلمانوں سے مخاطب ہے کب تک ایسا چلتا رہے گا انھیں آزادی واپس حاصل کرنے کے لیے ہمت باندھنا  پڑے گی ۔

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

PDF DOWNLOADING


شعر نمبر3

تا بہ کُجا ہوں دراز ، سلسلہ ہائے فریب

ضبط کی لوگوں میں تاب ،دیکھیے کب تک رہے

بنیادی فلسفہ:     معلوم نہیں مکروفریب کے یہ سلسلے کتنے لمبے ہوتے جائیں گے اور لوگ کب تک ضبط کرتے جائیں گے ۔

تشریح:  انگریز حکومت بڑی جابر اور شاطر تھی انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ برطانوی راج کو طول دینے کے لیے مختلف حیلوں بہانوں سے یہ باور کروایا گیا  کہ یہ سب کچھ عوام کے مفاد کے لیے ہے اسی سے وہ مسلمان قوم کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو  جاتے  ۔  بقول اقبال ؔ

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

مسلمانوں کی ترقی کو ظلم و استبداد اور فریب کے ذریعے کُچل دیا گیا ۔ انگریزوں نے ” سونے کی چڑیا” کو لوٹنے کے لیے ترقی کے نام نہاد طریقے متعارف کروائے  لیکن شاعر ان سے متفق نہیں ہے وہ اس اصلاح کو ملکی وسائل کا استحصال سمجھتا ہے اصلاح کے نام پر اس کو دھوکا اور فریب  سمجھتا  ہے ۔ حسرت ؔ  اسی لیے غلامی کو ایک لعنت قرار دیتے  ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے  جتنا جلد چھٹکارا پایا جا سکے پانا چاہیے ۔

غلامی مستقل لعنت ہے اور توہینِ انسان ہے

غلامی سے رہا ہو  اور آزادوں میں شرکت کر

حسرتؔ کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے انگریزوں  کے تمام حربوں اور چالوں کو جان کر ان کا پرچار کیا جائے تاکہ عوام ان حقائق کو جلدی  سمجھنے کے لائق ہو جائیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریز کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے ہمدرد  اور غم خوار نہیں ہو سکتے۔اس لیے  اب وہ وقت آپہنچا ہے بقول فیض احمد فیض ؔ

اے خاک نشینو ! اٹھ بیٹھو ،وہ وقت قریب آپہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

شاعر کا پیغام بہت واضح ہے کہ ظلم کی زندگی مختصر ہوتی ہے۔اور اب وہ وقت آگیا ہے  “مارو یا مر جاؤ” یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے  جب قومیں اپنے روشن مستقبل کا فیصلہ کرتی ہیں۔انقلاب اور حیاتِ جاوداں کے لیے  قوموں کو اپنی محنت پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے ۔بقول مولانا ظفر علی خان

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

 

ابھی تک پاؤں سے چمٹی ہیں زنجیریں غلامی کی

دن آ جاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی

 

گرا دے قصر تمدن کہ اک فریب ہے یہ

اٹھا دے رسم محبت عذاب پیدا کر

PDF DOWNLOADING


شعر نمبر4

پردہ اصلاح میں کوشش تخریب کا

خلق خدا پر عذاب دیکھیے کب تک رہے

بنیادی فلسفہ:   اصلاح کے پردے میں بربادی کی کوشش اور مخلوق  الہی پر عذاب کب تک رہتا ہے ۔

تشریح:  حسرتؔ کی شاعری برطانوی راج اور ان کی فریب کاریوں کو اجاگر کرنے   کے ساتھ ساتھ عوام کی سادہ لوحی کا  ماتم ہے ۔ اس شعر میں شاعر نے سامراج کے ایک نئے اندازِ ستم کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انگریز حکمرانوں کی تمام تر پالیسیاں  دراصل ہندوستان  کو لوٹنے  کے لیے تھیں وہ ہندوستان  کو سونے کی  چڑیا کہتے تھے ۔ تجارت کی غرض سے آنے والوں نے  پورے ملک پر قبضہ  کر لیا ۔ انگریزوں کے ظاہری منصوبوں کی چمک دمک  کو برصغیر کے لوگ خوشحالی سے منسوب کرتے تھے ۔حسرتؔ موہانی انگریزوں کے اصل حقائق کو جانتے تھے ان کے نزدیک انگریزوں کی ہر اصلاح کے پیچھے دھوکا اور فریب ہے ۔بقول غالبؔ

ہے کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

انگریز کبھی دل سے مسلمانوں کا بھلا نہیں چاہتے تھے ان کے مقاصد برصغیر پر قبضہ کرنا اور یہاں کے وسائل کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کرنا تھا ۔لیکن ہر دور میں ایسے صاحبِ بصیرت لوگ پائے جاتے ہیں جو حالات کو پہلے سے بھانپ لیتے ہیں ۔سر سید احمد خان ، علامہ اقبال ،مولانا ظفر علی خان اور حسرت موہانی ؔ جیسے شعراء کرام نے عوام کو  خواب غفلت  سے جگانے کے ساتھ ساتھ  انگریزوں  کی فریب کاری کے متعلق بھی بتایا ۔شاعر مشرق نے بھی ان کو سمجھایا:

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ، اے ہندوستان والو!

تمھاری داستان تک بھی نہ ہوگی ، داستانوں میں

شاعر کا یہ پیغام ہے کہ انگریزوں کی ہر چال ناکام ہو گی کیونکہ عوام پر عذاب انگریزوں کی صورت میں آیا ہوا ہے  اور ان کی تخریبی چالیں کارگر ثابت نہیں  ہوں گی اور آخر کار ہندوستان آزاد ہو  جائے گا ۔

ریا کاری ہمیشہ ہار جاتی ہے زمانے میں

کہ حق ظاہر ہو کر رہتا ہمیشہ ہی زمانے میں

اور

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں

اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں

آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا

تخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں

کیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھے

اک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریں

سنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے

اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

PDF DOWNLOADING


شعر نمبر5

حسرتِ آزاد پر ، جورِ غلامانِ وقت

ازرہِ بغض و عتاب ،دیکھیے کب تک رہے

بنیادی فلسفہ:   آزادی پسند حسرتؔ پر ابن الوقت لوگ کب تک   دشمنی اور غصے کی وجہ سے ظلم و ستم  کرتے ہیں ۔

تشریح:   حسرتؔ نے  غزل کے مقطع میں ایک نئے اندازِ ستم کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا کہنا ہے  کہ غلام ملکوں اور قوموں میں ظالم حکمران خوشامدی لوگوں کے ہاتھوں  حریت پسندوں کو رسوا کرواتے ہیں ۔خدا جانے ظلم کے  یہ سائے کب ڈھلتے ہیں ۔حسرتؔ اپنے دور کے جرات مند سیاسی رہنما تھے۔ چنانچہ انھوں نےبڑی صعوبتیں برداشت کیں ۔ وہ 11 مرتبہ جیل گئے اور ان  دنوں  جیل عقوبت خانے تھے ۔حسرتؔ کو کھڑے ہو کر سوامن گندم پیسنا پڑتی تھی ۔بقول حسرتؔ

ہے مشقِ سخن جاری ،چکی کی مشقت بھی

اک طُرفہ تماشا ہے حسرت ؔ کی طبعیت بھی

اور

کٹ گیا قید میں رمضان بھی حسرتؔ

گرچہ سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا

حسرتؔ موہانی کو آزادی وطن کا نعرہ بلند کرنے کی پاداش میں پولیس اور  جیل کے ملازمین نے  تشدد کا نشانہ بنایا ۔ظاہر ہے حسرت ؔ پر سختی کرنے والے  لوگ بھی ہندوستانی تھے ۔جنہوں نے انگریز آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے  حسرت اور ان جیسے اور مُحبانِ وطن پر طرح طرح کے ظلم و ستم روا رکھتے تھے۔وہ لوگ وقتی فائدے کے لیے اپنے اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتے تھے  اور سمجھتے  تھے کہ وطن سے محبت کرنے والوں کے  حوصلے  پست ہو   جائیں گے ۔

تلاطم ہائے بحرِ زندگی سے خوف ، کیا معنی

جو دیوانے ہیں ، وہ موجوں کو بھی ساحل سمجھتے ہیں

شاعر نے غلامانِ وقت  کو  حقارت  اور ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے ۔ کیونکہ  تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہی لوگ  میر جعفر اور میر صادق  کے روپ میں اپنی تخریب کاری کا کام انجام دے رہے تھے ۔ اور ساتھ یہ بھی پیغام دیا ہے کہ آزادی پسند حضرات کو ظلم وستم کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔ایک دن ظلم  اور جھوٹ نہاں اور حق اور آزادی عیاں ہو کر رہے گی۔

جانا  ہی  پڑے  گا  ہر  حال  میں  ان  کو

لُٹیرے کسی گھر میں کبھی ٹھہرا نہیں کرتے

PDF DOWNLOADING

 

Leave a Comment