Maktubat e Ghalib,مکتوبات غالب

  “مکتوباتِ غالب “کا پہلا خط  میر مہدی حسین مجروح  کے نام ہے جو  غالب نے  2– فروری 1859ء کودہلی سے  بھیجا ۔  “مکتوباتِ غالب “کا دوسرا  خط   اپنے شاگرد اور دوست ہرگوپال تفتہ  کے نام ہے جو  غالب نے14– اکتوبر 1864ء کودہلی سے  روانہ کیا ۔

  “مکتوباتِ غالب “کا پہلا خط  میر مہدی حسین مجروح  کے نام ہے جو  غالب نے  2– فروری 1859ء کودہلی سے  بھیجا ۔خط کے آغاز میں غالب  مہدی حسین مجروح  سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ اپنی ناچاری  اور   ان کی مجبوری  سمجھتے ہیں ۔نواب مصطفٰی خان   کا حوالہ دیتے ہوئے  اُن کی سات برس کی قید  ؛  پھر  رہائی  اور  املاک اور زمینوں کی ضبطی کا احوال  بیان کرتے ہیں ۔غالب ؔ  ڈاک گاڑی کے ذریعے میرٹھ پہنچےاور  نواب مصطفٰی خان    سے  ملاقات  کی روداد بھی بیان کی ہے ۔میرٹھ سے واپسی پر دہلی کے حالات کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انگریزوں کے ساتھ ساتھ  ہندوستانی پولیس  افسران  بھی ظلم ڈھانے میں پیش پیش ہیں ۔ انگریز حکومت  نے پانچ ہزار ٹکٹ چھپوائے ہیں بغیر ٹکٹ کے پائے جانے  والوں کو لاہوری دروازے کا دروغہ پکڑ کر  نہ صرف حوالات  کی ہوا کھلاتا ہے بلکہ جرمانے اور کوڑے بھی لگائے جاتے ہیں ۔ غالب نے اپنی روداد کچھ اس طرح بیان کی  ہے “اسد اللہ خاں پنسن دار1850ء سے حکیم پٹیالے والے کے بھائی کی حویلی میں رہتا  ہے نہ کالوں کے وقت میں کہیں گیا اور نہ گوروں کے وقت نکلا اور نہ نکالا گیا۔کرنل برن صاحب بہادر کے زبانی حکم پر اس کی اقامت کا مدار ہے۔” حکومت کے خوف سے لوگ شہر سے باہر مقیم تھے لیکن اب   بیرونِ شہر مکانات کو گرا دینے کا حکم ہے اور شہر میں اقامت کے لیے بھاری رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔لوگ مبارک گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں کب ان کو شہر میں اقامت ملے۔خط کے اختتام  پر  نواب مصطفٰی خاں کے چھوٹے بھائی میر سرفراز اور دوست نصیر الدین کو دعا اور بڑے بھائی میرن کو سلام کہتے ہیں ۔

  مکتوباتِ غالب “کا دوسرا  خط   اپنے شاگرد اور دوست ہرگوپال تفتہ  کے نام ہے جو  غالب نے14– اکتوبر 1864ء کودہلی سے  روانہ کیا ۔غالب ان کے قصائد کا ذکر اور نواب ضیاءالدین خاں نیر ؔ کی غزلوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں  برسات کی وجہ سے ان مسودات  کو دیکھنا ممکن نہیں ہوا۔کرایے  کا مکان مسلسل برسات کی وجہ سے  ؛  خستہ حال  اور چھلنی ہو گیا ہے۔بڑی مشکل سے برسات کا موسم گزارا اب تمہارے مسودے دیکھوں گا۔میر بادشاہ کی آمد اور میر قاسم علی سے ملاقات نہ ہونے کا تذکرہ بھی کیا ۔نواب مصطفیٰ خان کی بیماری اور حکیم احسن اللہ خاں سے علاج کا احوال کے ساتھ ساتھ اپنی  ناتوانی کا ذکر کرتے ہوئے  باقی سب طرح کی خیرو عافیت  کا لکھا ہے۔

PDF DOWNLOADING

Leave a Comment