ملکی ترقی میں خواتین کا کردار مضمون

ملکی ترقی میں خواتین کا کردار

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

کسی بھی ملک ، ریاست  یا ادارے کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار  کلیدی ہوتا ہے ۔  ملک خداداد  پاکستان کی آبادی کا نصف خواتین پر مشتمل   ہے ۔ آج کے پاکستان میں  عورتیں  ملکی تعمیر و ترقی  ، فلاح و بہبود اور مختلف شعبہ ء  ہائے زندگی میں کسی بھی ترقی یافتہ ممالک  کی خواتین کے برابر اپنا کردار ادا کر رہی  ہیں ۔ ہماری خواتین  سیاست ، تعلیم ، صحت   ،کھیل،سماجی فلاح و بہبود اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کر کے اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔ مشرقی روایات کی پاسداری کرنے والی پاکستانی عورت آج معاشرے کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ:

”دُنیا کا کوئی ملک اْس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا،جب تک قوم کے مردوں کے ساتھ خواتین بھی ملکی ترقی میں شانہ بشانہ حصہ نہ لیں“۔

ملکی ترقی میں خواتین کے کردار کے حوالے سے ہمارا مذہب اور آئین خواتین کو تمام بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور آج سے چودہ سو سال قبل خواتین کے حقوق کا تحفظ انکی عزت و احترام اور مذہبی حدود کو پیش نظر رکھ کر کاروبار تک کرنے کی سنہری مثال صرف اسلام ہی نے دی تھی ۔ عورت کو گھر کی ملکہ بنا کر اسی عورت کی گود کو پہلی درس گاہ کا منصب عطا کیا ۔اسی لیے صدیوں کی عدم مساوات، امتیازی سلوک اور پسماندگی کے باوجود پوری تاریخ میں اسلام نے ہی  خواتین کو  قوموں کی تقدیر کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق معاشی اجرتوں کے عالمی انڈکس  پر پاکستان دنیا کے 149 ممالک میں 148 ویں نمبر پر آتا ہے۔پاکستان کی   معاشی ترقی اور افرادی قوت  میں پاکستانی خواتین کی شمولیت صرف  23  فیصد ہے  اس لحاظ سے پاکستان دنیا بھر  کے 181 ممالک میں 167 ویں نمبر پر آتا ہے۔  خواتین کی معاشی ترقی میں  عدم شمولیت کی وجہ   نقل وحرکت کی پابندیاں ،  مردوں کے مقابلے میں اجرتوں  میں شدید فرق اہم ہیں

ملکی ترقی میں خواتین کا کردار
ملکی ترقی میں خواتین کا کردار

اگرچہ اسلام کے سنہری اصولوں کے بعد جدید دنیا کی بنیاد رکھ دی گئی تھی لیکن  21ویں صدی  میں  صنفی مساوات کی طرف نمایاں پیش  رفت کی  گئی ۔ خواتین نے قومی ترقی کے مختلف شعبوں جیسے کہ تعلیم، صحت ، نگہداشت  ، معیشت، سیاست اور ثقافت میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا  ۔ اگرچہ ہمارے ملک  کی  قومی ترقی میں خواتین کے کردار کا تاریخی پس منظر  تفاوت اور چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔قیام پاکستان کے وقت سے ہی  خواتین کو بنیادی طور پر ذاتی اور نجی شعبے  سے جوڑ دیا گیا تھا  جنہیں  گھر اور  بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی گھریلو خواتین اور ماؤں کا  کردار سونپا گیا تھا۔ خواتین کی  عوامی دائرے میں   شرکت اور کردار   نہ ہونے کے برابر تھا تعلیم، اقتصادی مواقع اور سیاسی شراکت داری  تک ان کی رسائی  نہ تھی   ۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ خواتین نے ثابت قدمی سے ان معاشرتی اصولوں کو چیلنج کیا اور  اپنی صلاحیتوں کی بھرپور طریقے سے پہچان کو ممکن بنایا   ۔

20ویں اور 21 ویں   صدی کے دوران   حق رائے دہی کی تحریکوں نے خواتین کے حقوق کی لڑائی میں ایک اہم سنگِ میل کی بنیاد رکھی  ۔امریکہ  اور برطانیہ جیسے ممالک میں، خواتین نے اپنے ووٹ کے حق کے لیے انتھک وکالت کی، جو آخرکار انہوں نے حاصل کر لی ۔ یہ تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے، کیونکہ اس نے خواتین کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کے قابل بنایا جو قومی ترقی کو تشکیل دیتا  ہے ۔

کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم کو بنیادی اور کلیدی حیثیت حاصل ہے  تعلیم تک رسائی قوموں کی ترقی کا سب سے بڑا  فیکٹر ہوتا ہے ۔ تاریخی طور پر قیام پاکستان کے بعد  ، خواتین کو تعلیمی مواقع سے محروم رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی فکری ترقی اور اقتصادی صلاحیت محدود تھی۔ تاہم،  1973   کی تعلیمی اصلاحات نے لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیمی اداروں  تک رسائی کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں ایک زیادہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند خواتین  کی افرادی قوت پیدا ہوئی۔ تعلیم یافتہ خواتین  نے نہ صرف اپنی ذاتی ترقی بلکہ اپنی برادریوں اور قوموں کی ترقی میں بھی اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔

مردوں کی تعلیم ضروری تو ہے مگر

پڑھ جائے جو خاتون تو نسلیں سنوار دے

ملکی ترقی میں خواتین کا کردار
ملکی ترقی میں خواتین کا کردار

اگر دنیا کی ترقی میں خواتین کے کردار کے آغاز پر نظر دوڑائیں تو   20ویں صدی کی دو عالمی جنگیں قومی ترقی میں خواتین کے کردار کے لیے تبدیلی کے ادوار تھے۔ مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والے مردوں کے ساتھ خواتین  نے بھی بھر پور حصہ لینا شروع کیا  جس نے  مزدوری کے خلا کو پر کرنے کے لیے غیر معمولی  کردار ادا کیا ۔ اس تجربے نے معاشرتی توقعات کو چیلنج کیا اور معیشت میں خواتین کے تعاون کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کیا۔ جنگ کے بعد، افرادی قوت میں خواتین کا کردار مسلسل بڑھتا رہا، جو ان کی معاشی خود مختاری  میں ایک اہم موڑ کا نشان بنا۔

خواتین نے ملکی ترقی میں تعلیم اور علم کے ذریعے اپنا موثر کردار ادا کیا حالیہ دہائیوں میں تعلیم میں خواتین کی شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آج، وہ نہ صرف طالب علم ہیں بلکہ معلم، محقق اور منتظم بھی ہیں۔ خواتین علم کی تخلیق اور پھیلاؤ، فکری ترقی اور مختلف شعبوں میں ترقی  کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ مزید برآں، وہ نوجوان نسلوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتی  ہیں، انہیں اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ خواہشات کو آگے بڑھانے کی ترغیب دیتی  ہیں۔ اور یہی بات  نپولین نے کہی تھی:

“آپ مجھے تعلیم یافتہ مائیں دیں میں آپ کو بہترین قوم دوں گا”

خواتین کو  ملکی ترقی میں معاشی بااختیار بناکر ترقی کی جا سکتی ہے ۔ خواتین کی معاشی شراکت داری  قومی ترقی کے لیے لازمی ہے۔ وہ زراعت اور مینوفیکچرنگ سے لے کر ٹیکنالوجی اور فنانس تک مختلف اقتصادی شعبوں میں مصروف ہیں۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ، قرض تک رسائی، وسائل اور خواتین کاروباریوں کی مدد کو یقینی بنانا شامل ہے۔ بااختیار خواتین اپنے خاندانوں کے مالی استحکام میں حصہ ڈالتی ہیں اور مجموعی اقتصادی ترقی اور ترقی کو بڑھاتی ہیں۔

پاکستان کی خواتین نے روایتی طور پر   ملکی ترقی میں خاندانی صحت اور بہبود کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ بنیادی دیکھ بھال کرنے والوں کے طور پر، وہ اپنے خاندانوں کی جسمانی اور جذباتی بہبود کو یقینی بناتی ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال تک ان کی رسائی، تولیدی حقوق، اور صحت عامہ کے اقدامات میں شرکت پوری آبادی کے لیے بہتر صحت کے نتائج کے لیے اہم ہیں۔ زچگی کی صحت کی دیکھ بھال، ویکسینیشن مہموں، اور کمیونٹی کی صحت کے اقدامات میں خواتین کی شمولیت نمایاں ہے۔صحت عامہ کو بہتر بنا کر قومی ترقی میں حصہ ڈالتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں   بڑے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی  بھی قومی ترقی کا ایک اہم جزو ہے۔ سیاسی طور  بااختیار خواتین  ؛ ملکی سیاست اور  پالیسی سازی کے  فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے قابل  بن  کر پوری قوم  کی ترقی پر اثر انداز ہوتی  ہیں۔ جن ممالک نے صنف پر مشتمل سیاسی نظام کو اپنایا ہے وہ زیادہ متوازن اور مساوی طرز حکمرانی کے حامل ہوتے ہیں۔ سیاست میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرے کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق ومحبت کے لیے علم وہنر موت

پاکستانی خواتین نے  ثقافتی ورثے کے تحفظ  میں کردار ادا کر کے  ملکی ترقی میں  اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وہ روایات، رسم و رواج اور اقدار کو  نہ صرف اگلی نسل تک منتقل کرتی  ہیں  بلکہ فنون، ادب اور ثقافتی سرگرمیوں میں، خواتین اکثر اپنے معاشروں کی شناخت اور کردار کی تشکیل میں نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔ ثقافتی تنوع اور تحفظ کسی قوم کی ترقی کے اہم پہلو ہیں، اور خواتین اس عمل میں لازمی ہیں۔

ملکی ترقی میں خواتین کو   فعال کردار کے حصول میں بے شمار چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا  بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان چیلنجوں میں شامل ہیں:

صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک:پاکستان  میں اکثر جگہوں پر آج بھی   خواتین کے خلاف امتیازی سلوک  برتا جا رہا ہے جس سے ان کی تعلیم، ملازمت اور سیاسی شرکت تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔ دقیانوسی تصورات اور تعصب خواتین کے مواقع کو محدود کرتے ہیں اور قومی ترقی میں ان کے تعاون کو روکتے ہیں۔صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کو ختم کر کے ملکی ترقی میں بیش بہا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔

صنفی بنیاد پر تشدد: صنفی بنیاد پر تشدد ایک قبیح حرکت اور معاشروں کے زوال کی وجوہات میں بہت اہم ہے ، جو خواتین کو بااختیار بنانے اور فلاح و بہبود میں رکاوٹ ہے۔ گھریلو بدسلوکی، جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انسانی سمگلنگ کی شکل میں تشدد اکثر خواتین کو اپنی پوری صلاحیتوں کو حاصل کرنے سے روکتا ہے۔

2012ء میں ” ویمن ڈویلپمنٹ ڈویژن  “بنایا گیا، یہ خواتین کی وزارت ہے جو ان کیلئے کام کر رہی ہے۔ اسی طرح خواتین کے تحفظ کیلئے “خاتون محتسب “  کا ادارہ بھی بنایا گیا   ہے جوہراسمنٹ اور وراثت کے معاملات کے مسائل کے لیے احسن اقدامات کر رہا ہے ۔

غیر مساوی مواقع:  پاکستان میں معاشی مواقعوں  میں عدم مساوات، قرض تک رسائی میں درپیش مشکلات  اور وسائل خواتین کی کاروباری صلاحیت اور معاشی بااختیار بنانے میں ایک اور بنیادی  رکاوٹ ہے ۔ بہت سے ممالک میں مساوی کام کے لیے غیر مساوی تنخواہ ایک چیلنج بنی ہوئی ہے، جس سے معاشی تفاوت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

نمائندگی کا فقدان: پاکستان میں  سیاسی اور معاشی  شرکت میں پیشرفت کے باوجود، حکومت اور کارپوریٹ دونوں شعبوں میں، فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کو اکثر کم نمائندگی دی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں صنفی برابری کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے۔

ثقافتی اور معاشرتی اصول: پاکستان کی معاشی ترقی  میں گہرائی سے جڑے ثقافتی اور معاشرتی اصول صنفی تفاوت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ روایتی صنفی کردار اور توقعات زندگی کے مختلف پہلوؤں میں خواتین کے انتخاب اور مواقع کو محدود کرتی ہیں۔

قومی ترقی میں خواتین کو بااختیار بنانے کی حکمت عملی کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے :-

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

  1. قومی ترقی میں خواتین کو بااختیار بنا کر اور انھیں درپیش چیلنجوں اور رکاوٹوں کو دور کرکے دور رس نتائج حاصل کیے جا سکتےہیں ۔ صنفی مساوات اور معاشرے کے تمام شعبوں میں خواتین کی بھرپور شرکت کا حصول  بھی اہم حکمتِ عملی ہو سکتا ہے ۔
  2. صنفی مساوات پر تعلیم اور بیداری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور کمیونٹی پروگراموں کو دقیانوسی تصورات اور تعصبات کو چیلنج کرنے کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے، ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جو خواتین کی امنگوں اور کامیابیوں کی حمایت کرے۔
  3. قانونی اصلاحات جو صنفی مساوات کو یقینی بناتی ہیں، خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں، اور صنفی بنیاد پر امتیاز اور تشدد کو دور کرتی ہیں۔ خواتین کو ایک قانونی فریم ورک فراہم کرنے کے لیے مضبوط اور قابل عمل قانون سازی بہت ضروری ہے جو ان کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے۔
  4. خواتین کے لیے معاشی بااختیار بنانے کے لیے اقدامات، جیسے کہ قرض تک رسائی، پیشہ ورانہ تربیت، اور خواتین کاروباریوں کے لیے تعاون، ضروری ہیں۔ یہ کوششیں خواتین کو معاشی مواقع تک رسائی اور قومی ترقی میں حصہ ڈالنے کے قابل بناتی ہیں۔
  5. خواتین کی سیاسی شرکت اور نمائندگی کی حوصلہ افزائی صنفی شمولیت والی حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کوٹہ، اثباتی عمل، اور رہنمائی کے پروگرام فیصلہ سازی کے کردار میں خواتین کی تعداد بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
  6. صحت کی دیکھ بھال اور تولیدی حقوق تک رسائی کو یقینی بنانا خواتین کی بہبود اور قومی ترقی میں مؤثر طریقے سے حصہ ڈالنے کی ان کی صلاحیت کے لیے ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی، زچگی کی صحت، اور جنسی اور تولیدی صحت کی خدمات آسانی سے دستیاب ہونی چاہئیں۔
  7. صنفی مساوات کو فروغ دینے میں کمیونٹیز اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نچلی سطح کے اقدامات، کمیونٹی تنظیمیں، اور مقامی رہنما بیداری پیدا کر سکتے ہیں، دقیانوسی تصورات کو چیلنج کر سکتے ہیں، اور خواتین کو بااختیار بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔
  8. بین الاقوامی تنظیمیں اور شراکت داری عالمی سطح پر خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقوام کے درمیان تعاون بہترین طریقوں کے تبادلے اور قومی ترقی میں خواتین کے کردار کو فروغ دینے والی پالیسیوں کو اپنانے کا باعث بن سکتا ہے۔

            پاکستان کی  نصف سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے  جب تک ہم اپنی خواتین کو ملکی ترقی میں  ساتھ لے کر نہیں چلیں گے تب تک ملکی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ ملکی ترقی میں  خواتین کو آگے بڑھنے کیلئے حقوق نسواں کے تحفظ   ،  مرد و زن میں مساوات  اور  آزادی جیسے تین اہم نکات پر کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ تین شعبوں   تعلیم،  سکلز ڈویلپمنٹ اور مین سٹریمنگ میں لانا ضروری ہے   ۔پاکستانی خواتین  نے ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا یا ہے ملکی معیشت میں  خواتین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اگر ہم خواتین کو بہتر معاشی مواقعے دیں تو  پانچ سالوں کے اندر اندر   ملک کی جی ڈی پی دوگنا ہوجائے گی۔

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

 

ملکی ترقی میں خواتین کا کردار

رحمت اللعالمین ﷺ مضمون

Leave a Comment