فعل کی فاعل اور مفعول کے ساتھ مطابقت کے اصول

فعل کی فاعل اور مفعول کے ساتھ مطابقت کے اصول کو پیشِ نظر رکھ کر ہم روزمرّہ کی گفتگو میں جملوں کی ساخت کو اردو زبان کے قاعدے اور قانون کے مطابق لکھ اور بول سکتے ہیں۔

سال دوم میں بورڈ کے معروضی پرچہ میں فعل کی فاعل اور مفعول کے ساتھ مطابقت کے اصول کو پیشِ نظر رکھ کر 3 سوالات آتے ہیں ۔ 100 ٪ نمبرات حاصل کرنے کے لیے۔فعل کی فاعل اور مفعول کے ساتھ مطابقت کے مندرجہ ذیل قاعدے اور اصول ہیں۔

فعل کی فاعل سے مطابقت کے اصول

اصول نمبر 1

فاعل واحد ہے تو فعل بھی واحد آئے گا مثلاً

علی آیا---اس فقرے میں علی فاعل اور آیا فعل ہے

لیکن اگر

فاعل واحد ہو اور اس کا احترام لازم ہو تو فعل بھی جمع آئے گا۔مثلاً

علامہ اقبال عظیم شاعر تھے

اور

والدِ محترم آ گئے

فعل کی فاعل سے مطابقت کا اصول

اصول نمبر 2

فاعل جمع ہے تو فعل بھی جمع آئے گا مثلاً

لڑکےآئے،چڑیاں اڑیں،کوے آئے وغیرہ

فعل کی فاعل سے مطابقت کا اصول

اصول نمبر 3

فاعل مذکر ہے تو فعل بھی مذکر آئے گا مثلاً

اکرم آیا،امجد آیا،طوطا اُڑا۔ٹرک دوڑا وغیرہ

فعل کی فاعل سے مطابقت کا اصول

اصول نمبر 4

فاعل مونث ہے تو فعل بھی مونث آئے گا مثلاً

سلمی آئی ،چڑیا اُڑی ،کار دوڑی وغیرہ

فعل کی فاعل سے مطابقت کا اصول

اصول نمبر 5

فاعل زیادہ ہوں تو فعل بھی آخری فاعل کے مطابق آئے گامثلاً

لڑکے اور لڑکیاں گئیں۔

لڑکیاں اور لڑکے گئے۔

فعل کی مفعول سے مطابقت کے اصول

اصول نمبر 1

مفعول واحد ہے تو فعل بھی واحد آئے گا مثلاً

اسلم نے کتاب خریدی

لیکن اگر

اگر مفعول کے ساتھ " کو " آئے تو فعل واحد مذکر آئے گا مثلاً

میں نے اس کو مارا ،ہم نے ان کو مارا،لڑکوں نے مالی کو مارا

فعل کی مفعول سے مطابقت کے اصول

اصول نمبر 2

مفعول جمع ہے تو فعل بھی جمع آئے مثلاً

اسلم نے کتابیں خریدیں

فعل کی مفعول سے مطابقت کے اصول

اصول نمبر 3

مفعول مذکر ہے تو فعل بھی مذکر آئے گا مثلاً

فاطمہ نے قلم خریدا

فعل کی مفعول سے مطابقت کے اصول

اصول نمبر 4

مفعول مونث ہے تو فعل بھی مونث آئے گا مثلاً

اسلم نے دوات خریدی

فعل کی فاعل سے مطابقت کا اصول

اصول نمبر 5

فاعل زیادہ ہوں تو فعل بھی آخری فاعل کے مطابق آئے گامثلاً

لڑکے اور لڑکیاں گئیں۔

لڑکیاں اور لڑکے گئے۔

اگر فاعل دو یا دو سے زائد ضمیروں پر مشتمل ہو اور ان کے درمیان حرف عطف ـــ اور ـــــ آ جائے فعل جمع ہو گا ۔ مثلا

ہم اور تم بازار جائیں گے

میں ،تم اور وہ شادی پر جائیں گے۔

اگر دو اسم بغیر حرفِ عطف کے بطورِ فاعل آئیں تو فعل جمع ہو

میاں بیوی ہنسی خوشی رہتے ہیں

اسلم اکبر سکول گئے

اگر فاعل دو ہوں اور فقرے کے اندرـــــ کوئی ــــ یا ــــ کچھ کا لفظ آجائے تو فعل واحد مذکر ہو گا۔

مال ،دولت،بینک بیلنس اور جاگیر کچھ نہ رہا۔

باپ ،بیٹا ، بھائی اور بہن کوئی نہ بچا۔

اگر فاعل دو ہوں اور ان کے بعد ـــــ دونوں ــــ کا لفظ آجائے تو فعل جمع آئے گا۔

اسلم اور اکرم دونوں بازار جائیں گے ۔

اگر اسم جمع ہو یا فاعل ایک مجموعے کے طور پر آئیں تو فعل واحد اور جنس کے مطابق ہو گا۔

اسم مجموعہ کے طور پر آ جائے تو فعل واحد آئے گا
قمیض شلوار کہاں رکھی ہے؟

گدھا گاڑی کتنے کی بکی۔

بلا گیند خریدی

گیند بلا خریدا

اور

اسم جمع کی مثال
ریوڑ چر رہا ہے

فوج پیش قدمی کر رہی ہے

ہجوم نعرے لگا رہا ہے ۔

تبلیغی جماعت آ گئی ۔

اگر فقرے کے اندر ـــــ سب کا لفظ آجائے ـــــــ تو فعل آخری فاعل کے مطابق آئے گا۔

مال ودولت،بینک ،بیلنس اور جاگیر سب بک گئی۔

باپ ،بیٹا ، بھائی ، بہن اور سالیاں سب چلے گئے۔

اگر فقرے کے اندرـــــ سب کچھ کا لفظ آجائےـــــــ تو فعل واحد آئے گا۔

علی نے سب کچھ بیچ دیا

اگر ایک سے زائد اسماء آ جائیں اور ان کی جنس میں اختلاف ہوتو فعل آخری فاعل کے مطابق ہو گا

اس ہسپتال میں دس نرسیں اور تین ڈاکٹر کام کرتے ہیں

کتابوں ، اخباروں اور رسالوں کے نام خواہ جمع ہوں مگر ان کے ساتھ فعل واحد آئے گا

"۔مکتوبات اقبال" چھپ گئی ہے۔

0 thoughts on “فعل کی فاعل اور مفعول کے ساتھ مطابقت کے اصول”

Leave a Comment